منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

پی آئی اے کے اثاثوں کی مجموعی مالیت کتنی اور کتنے اثاثے فروخت کیے گئے؟ تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 24  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)وفاقی حکومت نے قومی ایئرلائن پی آئی اے کو نجی گروپ کو 135ارب روپے میں فروخت کردیا ہے جبکہ فروخت شدہ ایئرلائن کے اثاثوں کی مجموعی مالیت 150سے 190ارب روپے کے قریب بتائی گئی ہے۔نجی ٹی وی کے مطابق حکومت پاکستان نے پی آئی اے کی 5جائیدادیں تمام جہاز، ملکی و بین الاقوامی روٹس اور آپریشنزکے ساتھ نجکاری کیلئے پیش کیے تھے۔نجکاری کمیشن کے مطابق پی آئی اے کے مجموعی اثاثے 150سے 190ارب روپے کے درمیان ہیں، قومی ایئرلائن کے پاس 34طیارے ہیں، جن میں سے 18آپریشنل اور 16گراؤنڈڈ ہیں، پی آئی اے 45بین الاقوامی اور 25ملکی روٹس پر روزانہ 70پروازیں چلاتی ہے۔

اعداد وشمار میں بتایا گیا کہ پی آئی اے کے ملازمین کی تعداد 9ہزار 500ہے جنہیں ایک سال تک ملازمت کا تحفظ دینا ہوگا اور پی آئی اے کی یومیہ آمدن 600سے 800ملین روپے کے درمیان ہے، جنوری سے جون 2025کے دوران پی آئی اے کی آمدن 112ارب روپے رہی ہے۔حکومت نے پی آئی اے کے 75فیصدحصص فروخت کر دیے ہیں جبکہ کامیاب بولی دہندہ کو باقی 25 فیصدحصص خریدنے کیلئے 90دن کی مہلت دی جائے گی۔حکومت نے پی آئی اے کے کامیاب خریدار کو متعدد اہم سہولیات دی ہیں، جس کے مطابق نئے جہازوں کی خریداری پر سیلز ٹیکس ادا نہیں کرنا ہوگا، پی آئی اے کے ایف بی آر اور ایوی ایشن واجبات خریدار ادا نہیں کرے گا، جبکہ پی آئی اے کو ایف بی آر کے 26ارب اور ایوی ایشن کے 7ارب روپے ادا کرنے ہیں۔

عارف حبیب کنسورشیم کو کراچی، لاہور اور اسلام آباد میں قومی ایئرلائن کے دفاتر سمیت کل 5 جائیدادیں فروخت کی گئی ہیں۔پی آئی اے کے خریدار عارف حبیب کنسورشیم فوری طور پر حکومت پاکستان کو 10ارب 12کروڑ روپے ادا کرے گا جبکہ بقایا رقم پی آئی اے کی بہتری پر ہی خرچ کی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…