منگل‬‮ ، 15 ستمبر‬‮ 2026 

حکومت نے ڈرائیونگ لائسنس بنوانے والوں کو بڑا ریلیف دیدیا

datetime 23  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) ٹریفک قوانین پر مؤثر عملدرآمد کے لیے جہاں ٹریفک پولیس کی جانب سے سخت اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہیں پنجاب حکومت نے شہریوں کو ڈرائیونگ لائسنس کے حصول میں نمایاں سہولت فراہم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

صوبائی حکومت نے پنجاب بھر میں ڈرائیونگ لائسنسنگ سینٹرز کے اوقات کار بڑھانے کی منظوری دے دی ہے۔ لاہور، راولپنڈی، ملتان سمیت تمام بڑے شہروں میں اب لائسنسنگ سینٹرز چوبیس گھنٹے خدمات فراہم کریں گے۔ اس اقدام کا مقصد شہریوں کو زیادہ سہولت دینا اور رش کو کم کرنا ہے۔

اسی طرح چھوٹے شہروں میں بھی نظام الاوقات میں تبدیلی کی گئی ہے، جہاں ڈرائیونگ لائسنس مراکز صبح 8 بجے سے رات 12 بجے تک کھلے رہیں گے۔

ٹریفک پولیس کے ترجمان کے مطابق یہ فیصلہ عوامی سہولت کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا گیا ہے تاکہ زیادہ سے زیادہ افراد آسانی سے لائسنس بنوا سکیں اور جرمانوں سے محفوظ رہیں۔

شہریوں نے حکومت کے اس اقدام کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اوقات کار میں اضافے سے انہیں بڑی سہولت ملے گی اور وہ اپنی مصروفیات کے مطابق کسی بھی وقت لائسنس کے لیے رجوع کر سکیں گے۔

دوسری جانب پنجاب میں ڈرائیونگ لائسنس کے اجرا اور تجدید سے متعلق ڈرائیونگ لائسنس انفارمیشن مینجمنٹ سسٹم (ڈی ایل آئی ایم ایس) نے سرکاری فیسوں کی تفصیل بھی جاری کر دی ہے۔ پہلی مرتبہ ڈرائیونگ لائسنس حاصل کرنے کی فیس 400 روپے مقرر کی گئی ہے، جبکہ تجدید کے لیے 200 روپے ادا کرنا ہوں گے۔

کار یا جیپ کے لائسنس کے لیے فیس 1350 روپے رکھی گئی ہے اور اس کی تجدید پر 675 روپے وصول کیے جائیں گے۔ اسی طرح لائٹ ٹرانسپورٹ وہیکل یا کمرشل گاڑیوں کے لائسنس کی فیس نسبتاً زیادہ ہے، جہاں نئے لائسنس کے لیے 2480 روپے اور تجدید کے لیے 1240 روپے مقرر کیے گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



صرف ایک شخص کے لیے


کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…