ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلادیش میں انقلابی طالبعلم کے قتل پر بھارت مخالف مظاہرے، عوامی لیگ و میڈیا دفاتر نذر آتش

datetime 19  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) بنگلادیش میں نوجوان انقلابی رہنما شریف عثمان ہادی کی موت کے بعد پورے ملک میں بھارت مخالف احتجاج کی لہر پھیل گئی ہے اور کئی علاقوں میں پرتشدد مظاہرے سامنے آئے ہیں۔

ڈھاکا میں بڑی تعداد میں لوگ سڑکوں پر نکل آئے اور غصے کی حالت میں عوامی لیگ اور مختلف میڈیا اداروں کے دفاتر کو آگ لگا دی۔ مشتعل مظاہرین نے توڑ پھوڑ کر کے مرکزی شاہراہیں بند کر دیں جبکہ کئی مقامات پر پولیس اور مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپوں کی اطلاعات بھی مل رہی ہیں۔

احتجاجی ریلیوں میں شرکاء نے عثمان ہادی کے حق میں نعرے لگاتے ہوئے کہا کہ وہ تب تک احتجاج جاری رکھیں گے جب تک ان کے قاتلوں کو کیفرِ کردار تک نہیں پہنچایا جاتا۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ حملہ آوروں کو فوری گرفتار کر کے انصاف فراہم کیا جائے۔

راجشاہی میں صورتِ حال مزید بگڑ گئی جہاں شیخ مجیب الرحمان کی رہائش گاہ کو بھی آگ لگانے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ حکومت نے حالات کے پیشِ نظر مختلف اضلاع میں سیکیورٹی سخت کر دی ہے۔

عثمان ہادی ان طلبہ رہنماؤں میں شامل تھے جنہوں نے جولائی میں حسینہ واجد حکومت کے خلاف تحریک چلائی تھی۔ وہ طلبہ کی جانب سے قائم کیے گئے سیاسی پلیٹ فارم ’’انقلاب منچ‘‘ کے ترجمان بھی تھے۔

گزشتہ جمعے کو ڈھاکا میں نامعلوم افراد نے فائرنگ کر کے انہیں شدید زخمی کر دیا تھا۔ ابتدائی علاج کے بعد انہیں سنگاپور لے جایا گیا، مگر وہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے انتقال کر گئے۔

تحقیقات کے مطابق حملہ کرنے والے ملزمان مبینہ طور پر بھارتی سرحد سے غیر قانونی طور پر داخل ہوئے اور کارروائی کے بعد واپس بھارت چلے گئے۔ بنگلادیشی حکام کا کہنا ہے کہ مرکزی مشتبہ حملہ آور کی شناخت فیصل کریم مسعود جبکہ اس کے ساتھی موٹرسائیکل سوار کی شناخت عالمگیر شیخ کے نام سے ہوئی ہے۔

اب تک اس کیس میں 14 افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے جن میں فیصل کے والد ہمایوں کبیر، والدہ ہاسی بیگم، اہلیہ شاہدہ پروین سمیہ اور بھائی واحد احمد سیپو بھی شامل ہیں۔ تمام افراد سے تفتیش جاری ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…