ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

سعودی عرب نے ایک سال میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا ہی ریکارڈ توڑ دیا

datetime 16  دسمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)سعودی عرب نے ایک بار پھر ایک ہی برس میں سب سے زیادہ سزائے موت دینے کا اپنا سابقہ ریکارڈ پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پیر کے روز مزید تین افراد کو پھانسی دی گئی، جس کے بعد رواں سال اب تک سزائے موت پانے والوں کی تعداد 340 تک پہنچ گئی ہے۔اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق حالیہ برسوں میں سعودی عرب دنیا میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا ہے۔ یہ مسلسل دوسرا سال ہے کہ مملکت نے ایک سال میں دی جانے والی پھانسیوں کا اپنا ہی ریکارڈ توڑا ہے۔ اس سے قبل 2024 میں 338 افراد کو سزائے موت دی گئی تھی۔

سعودی وزارتِ داخلہ نے سرکاری خبر رساں ادارے سعودی پریس ایجنسی کے ذریعے جاری بیان میں بتایا کہ مکہ ریجن میں قتل کے مقدمات میں قصوروار ٹھہرائے گئے تین مجرموں کو پھانسی دی گئی۔اعداد و شمار کے مطابق 2025 کے آغاز سے اب تک دی جانے والی 340 سزاؤں میں سے 232 کا تعلق منشیات کے مقدمات سے ہے، جو مجموعی تعداد کا بڑا حصہ بنتا ہے۔ یہ معلومات وزارتِ داخلہ اور ایس پی اے کے سرکاری بیانات کی بنیاد پر مرتب کی گئی ہیں۔ واضح رہے کہ سعودی عرب نے تقریباً تین سال تک منشیات کے جرائم میں سزائے موت پر عمل روکنے کے بعد 2022 کے آخر میں دوبارہ ان سزاؤں کا نفاذ شروع کیا تھا۔عرب دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے ساتھ ساتھ سعودی عرب منشیات، خصوصاً کیپٹاگون، کی بڑی منڈیوں میں شمار ہوتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق کیپٹاگون شام کی اہم غیر قانونی برآمدات میں شامل تھا، جسے سابق صدر بشار الاسد کے دور میں فروغ ملا۔ بشار الاسد کو گزشتہ سال اقتدار سے ہٹا دیا گیا تھا۔ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق 2022، 2023 اور 2024 کے دوران بھی سعودی عرب دنیا بھر میں سزائے موت پر عمل درآمد کرنے والے ممالک میں چین اور ایران کے بعد تیسرے نمبر پر رہا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پھانسیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ سعودی عرب کی جانب سے 2023 میں شروع کی گئی ’’وار آن ڈرگز‘‘ پالیسی کا نتیجہ ہے، جس کے تحت ابتدائی برسوں میں گرفتار کیے گئے ملزمان کو طویل عدالتی عمل کے بعد اب سزائے موت دی جا رہی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…