ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

آسٹریلوی ساحل پر حملہ آور سے بندوق چھیننے والے شخص کے علاج کیلئے لاکھوں ڈالر جمع ہوگئے

datetime 16  دسمبر‬‮  2025 |

سڈنی(این این آئی)آسٹریلیا کے بونڈی بیچ میں فائرنگ کے واقعے کے دوران حملہ آور سے بندوق چھیننے والے شخص کے علاج کے لیے لاکھوں ڈالر جمع ہوگئے۔میڈیا رپورٹ کے مطابق فائرنگ کے واقعے کی وائرل ہونے والی فوٹیج میں دیکھا جاسکتا ہے کہ 43 سالہ احمد الاحمد عقب سے ایک مسلح شخص کے قریب پہنچتے ہیں اور اس کے ہاتھ سے لمبی نال والی بندوق چھین لیتے ہیں۔ یہ ویڈیو دنیا بھر کے میڈیا اداروں نے نشر کی جسے سوشل میڈیا پر 22 ملین سے زائد بار دیکھا جاچکا ہے۔فوٹیج میں ایک اور شہری کو بھی دکھایا گیا ہے جو غیر مسلح حملہ آور کی طرف دوڑتا ہے اور اس پر ایک چیز پھینکتا ہے جس کے بعد دونوں شہری ایک درخت کے پیچھے چھپ کر پناہ لیتے ہیں۔احمد الاحمد کے والدین نے آسٹریلوی میڈیا کو بتایا کہ واقعے کے دوران ان کے بیٹے کے کندھے میں 4 سے 5 گولیاں لگیں جن میں سے کئی اب بھی اس کے جسم میں پیوست ہیں۔

احمد کے والد محمد فاتح الاحمد اور والدہ ملکہ حسن الاحمد نے بتایا کہ وہ چند ماہ قبل ہی شام سے سڈنی پہنچے تھے جبکہ ان کا بیٹا 2006 میں آسٹریلیا آیا تھا اور اس کے بعد سے وہ اس سے جدا تھے۔والدین کے مطابق احمد الاحمد بونڈی میں ایک دوست کے ساتھ کافی پی رہے تھے کہ اچانک فائرنگ کی آوازیں سنائی دیں، انہوں نے ایک حملہ آور کو درخت کے پیچھے چھپے دیکھا اور جب اس کی گولیاں ختم ہوگئیں تو احمد پیچھے سے اس کے قریب پہنچے اور اس سے اسلحہ چھیننے میں کامیاب ہوگئے۔احمد الاحمد کے والدین کے مطابق ان کا بیٹا کسی کی جان بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے چاہے اس کا تعلق یا مذہب کچھ بھی ہو۔

ان کے والد نے کہا کہ جب اس نے یہ قدم اٹھایا تو وہ یہ نہیں سوچ رہا تھا کہ وہ کن لوگوں کو بچا رہا ہے یا سڑک پر کون مر رہا ہے، وہ قومیت یا مذہب میں فرق نہیں کرتا، خاص طور پر آسٹریلیا میں، جہاں ایک شہری اور دوسرے شہری میں کوئی فرق نہیں ہونا چاہیے۔حمد کے کزن نے بتایا کہ احمد کی پہلی سرجری کامیابی سے ہو چکی ہے جبکہ مزید دو یا تین سرجریاں متوقع ہیں۔احمد الاحمد کی جرات اور بہادری نے امریکا میں بھی توجہ حاصل کی جہاں صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور معروف ارب پتی سرمایہ کار ولیم ایکمین نے ان کی بہادری کو سراہا۔صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں ایک خطاب کے دوران احمد کے اقدام کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ‘بے شمار جانیں بچائیں۔دوسری جانب ولیم ایکمین نے احمد کے لیے قائم آن لائن فنڈ ریزر میں ایک لاکھ ڈالر عطیہ کرنے کا اعلان کیاہے جبکہ اس فنڈ ریزر میں صرف 12 گھنٹوں کے دوران 5 لاکھ 50 ہزار ڈالر جمع ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…