ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

بیرون ملک فوجی سرگرمیاں ممنوع قرار، جو بھی ایسا کرے گا، وہ باغی تصور ہوگا،1000 افغان علماء، مشائخ کا مشترکہ اعلامیہ

datetime 12  دسمبر‬‮  2025 |

اسلا م آباد(نیوز ڈ یسک ) افغانستان کی کابل یونیورسٹی میں علما، مذہبی شخصیات اور سیاسی رہنماؤں کا ایک بڑا اجلاس منعقد ہوا، جس میں ملک بھر سے آئے ہوئے ایک ہزار سے زائد علما نے شمولیت اختیار کی۔اجلاس کے اختتام پر ایک مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا جس میں واضح طور پر کہا گیا کہ افغانستان سے باہر جا کر کسی بھی قسم کی عسکری کارروائی سختی سے ممنوع ہوگی۔ علما نے اعلان کیا کہ جو فرد بیرونِ ملک مسلح سرگرمیوں میں ملوث ہوگا وہ ’باغی‘ سمجھا جائے گا۔

اعلامیے میں افغان حکومت کو بھی دوٹوک پیغام دیا گیا کہ وہ اپنی سرزمین کسی ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونے دے اور ملکی خودمختاری کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کرے۔افغان علما نے زور دیتے ہوئے کہا کہ اگر افغانستان میں امن برقرار رکھنا ہے تو بیرونِ ملک کسی भी نوعیت کی جنگجو کارروائی برداشت نہیں کی جانی چاہیے اور حکومت کو اس حوالے سے سختی اختیار کرنا ہوگی۔اس مشترکہ بیان کو پاکستان کے دیرینہ مؤقف کی توثیق بھی قرار دیا جا رہا ہے۔ پاکستان مسلسل افغان طالبان سے مطالبہ کرتا رہا ہے کہ افغانستان کی سرزمین پاکستانی علاقوں میں حملوں کے لیے استعمال نہ ہونے دی جائے، مگر طالبان کی جانب سے اس حوالے سے کوئی عملی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔

واضح رہے کہ پاکستان اور افغان طالبان کے درمیان استنبول میں تین مرتبہ مذاکرات بھی ہوئے، جہاں پاکستان نے تحریری ضمانت طلب کی تھی کہ افغان سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہیں ہوگی، تاہم طالبان یہ یقین دہانی فراہم کرنے میں ناکام رہے۔افغان علما کے اس اعلامیے نے پاکستان کے خدشات کو ایک بار پھر سامنے لا کھڑا کیا ہے، کیونکہ پاکستان طویل عرصے سے اسی بات کا مطالبہ کرتا آیا ہے کہ افغانستان اپنے علاقوں کو دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہ ہونے دے۔یہ اعلامیہ جہاں افغانستان کے داخلی حالات پر اثرانداز ہو سکتا ہے، وہیں یہ پاکستان کے لیے بھی ایک اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے افغان طالبان کی پالیسیوں پر سوالات بھی اٹھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان موجود سکیورٹی و سیاسی کشیدگی ایک بار پھر نمایاں ہوئی ہے۔افغان میڈیا نے اس اجلاس اور علما کے اعلان کو خاصی اہمیت دیتے ہوئے اسے افغانستان کی نئی سکیورٹی سمت کے تعین میں ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…