بدھ‬‮ ، 30 ستمبر‬‮ 2026 

موبائل ہیک کرکے 100 سے زائد لڑکیوں کو اپنی ہوس کا نشانہ بنایا’ ساتویں پاس ملزم کے سنسنی خیز انکشافات

datetime 25  ‬‮نومبر‬‮  2025 |

کراچی (ویب ڈیسک) — خواتین کو سوشل میڈیا لنکس کے ذریعے ہیک کرنے والا ملزم سمیر عرف پی کے پولیس کے ہاتھوں گرفتار ہوگیا۔ دورانِ تفتیش اس نے اعتراف کیا کہ وہ متعدد لڑکیوں کے موبائل فون ہیک کر کے ان کی نجی معلومات چوری کرتا رہا اور اب تک چار خواتین کی نازیبا ویڈیوز بھی بنا چکا ہے۔

پولیس کے مطابق ملزم کو ایک 5 ہزار روپے والا لنک لاہور کے ایک شخص نے دیا تھا، جسے وہ مختلف پلیٹ فارمز پر بھیج کر صارفین کے موبائل فون اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس تک رسائی حاصل کر لیتا تھا۔ ملزم گوگل اکاؤنٹ ہیک کرکے متاثرہ افراد کا مکمل ڈیٹا اپنے قابو میں کر لیتا اور اسی بنیاد پر انہیں بلیک میل کرتا تھا۔

ملزم نے بتایا کہ وہ صرف ساتویں جماعت پاس ہے اور بیروزگاری کے دوران آن لائن گروپس کے ذریعے ہیکنگ کے طریقے سیکھے۔ اسی عمل کے دوران اس نے درجنوں خواتین کو نشانہ بنایا۔

ایس ایچ او عید گاہ حفیظ اعوان کے مطابق ملزم کے موبائل سے 450 سے زائد نازیبا ویڈیوز برآمد ہوئیں، جبکہ ابتدائی معلومات کے مطابق وہ ممکنہ طور پر 100 سے زیادہ لڑکیوں کو ہراساں یا بلیک میل کر چکا ہے۔ اس کے قبضے سے لیپ ٹاپ اور موبائل بھی تحویل میں لے لیے گئے ہیں جن کی ٹیکنیکل جانچ جاری ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وفاقی حساس ادارے اور سی ٹی ڈی بھی تفتیش میں شامل ہیں۔ ملزم کا تعلق گلستانِ جوہر، رابعہ سٹی سے ہے اور وہ غیر شادی شدہ ہے، جبکہ اس کے گھر میں والدہ اور بہن رہتی ہیں۔

حکام کے مطابق سمیر کی گرفتاری رنچھوڑ لائن کی ایک بہادر لڑکی کی مدد سے ممکن ہوئی، جس کا موبائل بھی ملزم نے ہیک کر رکھا تھا۔ متاثرہ لڑکی نے والدین کو آگاہ کرنے کے بعد پولیس سے رابطہ کیا اور پولیس کی منصوبہ بندی کے مطابق ملزم کو ملنے کے لیے بلایا، جہاں اسے رنگے ہاتھوں گرفتار کر لیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…