ہفتہ‬‮ ، 28 فروری‬‮ 2026 

کراچی کے شہری خواتین کے زیورات اور دیگر اثاثے بیچنے پر مجبورکردیئے گئے

datetime 22  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) عروس البلاد کراچی کے شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں ۔لوگوں نے بحالت مجبوری خواتین کے زیورات اور دیگر اثاثے بیچ کر پانی کے لیے حصول کے لیے بورنگ کروانی شروع کردی ہے ۔شہری کو پانی کی فراہمی کے ذمہ دار ادارے کراچی واٹراینڈ سیوریج بورڈ کے حکام نے اس صورت حال کا ذمہ دار ڈیفنس ہاو ¿سنگ اتھارٹی کو قرار دے دیا ہے ۔ایم ڈی واٹربورڈ مصباح الدین فرید کا کہنا ہے کہ شہریوں کا 70فیصد پانی ڈی ایچ اے والے ٹینکرز کے ذریعہ لے جاتے ہیں ۔کراچی کو اس وقت 60کروڑ گیلن یومیہ پانی کی قلت کا سامنا ہے ۔ڈی ایچ اے نے فیز 8بھی آباد کرلیا ہے ۔اس کے علاوہ دیگر فیزز میں بھی اضافی پانی فراہم کیاجارہا ہے ۔انہوں نے دعویٰ کیا کہ ادارے نے شہر سے تمام غیر قانونی ہائیڈرنٹس ختم کردیئے ہیں ۔اس وقت صرف 20فیصد ہائیڈرنٹس آپریشنل ہیں جو قانونی ہیں ۔ادھر پانی کو ترسے ہوئے شہریوں کو کہنا ہے کہ پانی اب صرف پیسے والے لوگوں کے لیے رہ گیا ہے ۔غریب کے لیے پانی نہیں ہے ۔کراچی میں زیر زمین پانی کی سطح بھی غیر معمولی طور پر نیچے چلی گئی ہے ۔پہلے 50سے 60فٹ کی گہرانی میں پانی نکل آتا تھا ۔اب یہ سطح ڈیڑھ سو فٹ سے بھی نیچے چلی گئی ہے ۔اس صورت حال میں بورنگ کرنے والوں کا کاروبار چمک اٹھا ہے جو کھدائی کے لیے 60ہزار سے ایک لاکھ روپے تک وصول کررہے ہیں ۔اس پر بھی یہ ضمانت نہیں ہے کہ پانی میٹھا نکلے گا یا کھارا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



ہائوس آف شریف


جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…