ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

غیرملکیوں اور گرین کارڈ ہولڈرز کے امریکہ انٹری اور ایگزٹ کیلئے نئے قواعد کا اعلان

datetime 28  اکتوبر‬‮  2025 |

واشنگٹن (این این آئی )امریکا نے غیر ملکیوں، حتی کہ گرین کارڈ ہولڈرز کے لیے بھی ملک میں داخلے اور خروج کے وقت بایومیٹرک اور چہرہ شناس نظام کو لازمی قرار دے دیا ہے۔ محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی کے مطابق یہ نیا ضابطہ 26 دسمبر 2025 سے نافذ ہوگا، جس کا مقصد جعلی سفری دستاویزات، شناختی دھوکہ دہی اور ویزا کی مدت سے تجاوز کے واقعات کو روکنا ہے۔محکمہ کے ذیلی ادارے یو ایس کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق اب ہر غیر امریکی شہری کی تصویر اور دیگر بایومیٹرک معلومات سرحدی چیک پوائنٹس پر داخلے اور روانگی، دونوں مواقع پر حاصل کی جائیں گی۔ اس ضمن میں وہ عمر کی رعایتیں بھی ختم کر دی گئی ہیں جو پہلے 14 سال سے کم اور 79 سال سے زیادہ عمر کے افراد کے لیے موجود تھیں۔

یہ نظام دراصل موجودہ چہرہ شناخت ٹیکنالوجی کو وسعت دے گا جو اس وقت زیادہ تر بین الاقوامی ہوائی اڈوں پر استعمال کی جا رہی ہے، تاہم نئے ضوابط کے بعد اسے تمام زمینی، سمندری اور فضائی داخلی و خارجی راستوں پر لازم کیا جائے گا۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس سے ویزا سے زیادہ قیام کرنے والوں کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔ ایک ایسا مسئلہ جس کے بارے میں ایک 2023 کی رپورٹ کے مطابق، تقریبا 42 فیصد غیر قانونی مقیم افراد اسی زمرے میں آتے ہیں۔امریکی کانگریس نے 1996 میں ایک خودکار داخلہ و خروج نظام کے قیام کی منظوری دی تھی، مگر وہ اب تک مکمل طور پر نافذ نہیں ہو سکا۔ نئی پیش رفت کو اسی قانون کے تحت عملی جامہ پہنانے کی کوشش قرار دیا جا رہا ہے۔کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے اندازے کے مطابق اگلے تین سے پانچ سالوں میں یہ بایومیٹرک نظام تمام بڑے ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں پر مکمل طور پر فعال ہو جائے گا۔

اس کے تحت مسافروں کی تصویری معلومات ایک مرکزی ڈیٹا بیس میں جمع ہوں گی، جنہیں پاسپورٹ اور دیگر سفری دستاویزات سے جوڑ کر اصل وقت میں تصدیق کی جائے گی۔اگرچہ حکومت اسے قومی سلامتی کے لیے ناگزیر قدم قرار دے رہی ہے، مگر شہری آزادیوں کے حامی ماہرین اور تنظیموں نے شدید تحفظات ظاہر کیے ہیں۔ امریکی کمیشن برائے شہری حقوق کی 2024 کی رپورٹ میں کہا گیا کہ چہرہ شناخت ٹیکنالوجی سیاہ فاموں اور دیگر نسلی اقلیتوں کے چہروں کی شناخت میں زیادہ غلطیاں کرتی ہے، جس سے امتیازی سلوک کے خدشات بڑھ سکتے ہیں۔امریکی سول لبرٹیز یونین کے سینئر پالیسی مشیر کوڈی وینزکے نے اس اقدام کو پرائیویسی کے حق پر حملہ قرار دیتے ہوئے کہا کہ: یہ ٹیکنالوجی نا قابلِ اعتماد ہے، اقلیتوں کو زیادہ نقصان پہنچاتی ہے، اور ایک مستقل نگرانی کے نظام کی بنیاد رکھتی ہے۔ناقدین کا موقف ہے کہ اگرچہ قانون سازی دو دہائیاں پہلے ہوئی تھی، مگر اس وقت اس نوعیت کی جدید ٹیکنالوجی کا تصور بھی نہیں تھا۔ ان کے بقول موجودہ ضابطہ شہری آزادیوں، نجی زندگی اور نسلی مساوات کے لیے نئے سوالات پیدا کرتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…