اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان نے جِلدی مرض فنگل انفیکشن کی دوا بنالی

datetime 28  اکتوبر‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)جِلد کے مرض فنگل انفیکشن کے علاج کی دوا ایجاد کرلی گئی۔ سرد موسم میں جِلد کے امراض میں تیزی سے اضافہ ہوتا ہے جس کی وجہ خشک موسم بتائی جاتی ہے۔جِلدی امراض کے ماہر ڈاکٹر شمائل ضیا نے بتایا کہ پاکستان میں پہلی بار فنگل انفیکشن کے علاج کے لیے نئی دوا ایجاد کرلی گئی ہے کیونکہ سردی اور گرمیوں کے موسم میں فنگل انفیکشن کا مرض تیزی سے بڑھتا ہے۔انہوں نے کہا کہ فنگل انفیکشن کے علاج میں دو دواں کو ملاکر یہ دوا تیار کی گئی ہے۔ خشک موسم میں جلد پر کریک پڑنا شروع ہوجاتے ہیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ سرد موسم جسم کو موسچرائز رکھا جائے۔ڈاکٹر شمائل ضیا نے بتایا کہ پاکستان میں فنگل انفیکشن (Fungal Infection) صحت عامہ کا ایک سنگین مسئلہ ہے۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو فنگس (جو جسم پر پسینے جمع ہونے کی وجہ سے ہوتی ہے)کے سبب ہوتی ہے ۔

فنگل انفیکشن عام طور پر ناخن، بال، منہ یا اندرونی اعضا پر حملہ کرتے ہیں۔ جسم پر سرخ رنگ کے گول نشان بن جاتے ہیں جس کی وجہ سے اس حصے پر خارش ہوتی ہے اور یہ خارش ایک سے دوسرے فرد منتقل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔انہوں نے کہا کہ زیادہ نمی یا پسینہ، صفائی کا خیال نہ رکھنا، کمزور مدافعتی نظام، ذیابیطس (شوگر)کے مریضوں کو اس مرض کے متاثر ہونے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ سرد موسم میں خشکی کی وجہ سے جسم کے کھال شدید متاثر ہوجاتی ہے خاص کر ہاتھوں، پیروں اور پاں میں کریک پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔ اس خشک موسم میں جلدی امراض تیزی سے ابھرتے ہیں، ایسی صورت میں ناریل کا تیل مفید ہوتا ہے۔انہوں نے بتایا کہ عام طور سے خواتین اپنے چہرے کی رنگت کو گورا کرنے کے لیے مختلف کیمیکل سے تیار کی جانے والی کریم استعمال کرتی ہیں جس کے وجہ سے چہرے کی اسکن شدید متاثر ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ان کریموں کے استعمال سے چہرے پر چھائیاں بھی واضع ہوجاتی ہے، چہرے پر زیادہ کریم استعمال کرنے سے کینسر سمیت دیگر امراض جنم لیتے ہیں۔انہوں نے خواتین کو مشورہ دیا کہ مارکیٹوں میں ملنے والی کیمیکل کریم میں Mercury اور Arsenic شامل ہوتے ہیں جس کی وجہ سے اسکن خراب ہوجاتی ہے، لہذا اسی غیر ضروری کیمیکل کی حامل کریم استعمال نہ کریں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…