پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

سعودی حکومت نے غیر ملکی ملازمین کو کنٹریکٹ کا کاپی نہ دینے اور پاسپورٹ رکھنے والے کفیل پر جُرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا

datetime 22  اکتوبر‬‮  2015 |
JEDDAH, Saudi Arabia - OCTOBER 13: German Foreign Minister Frank-Walter Steinmeier (not pictured) meets Saudi Crown Prince and defense minister Salman bin Abdulaziz al-Saud in Jeddah on October 13, 2014 in Jeddah, Saudi Arabia.(Photo by Thomas Imo/Photothek via Getty Images)

جدہ(نیوزڈیسک) سعودی حکومت نے غیر ملکی ملازمین کو کنٹریکٹ کی کاپی نہ دینے اور ان کے پاسپورٹ رکھنے والے آجروں پر جُرمانہ عائد کرنے کا فیصلہ کر لیا. جس کے تحت اب کارکنان کا پاسپورٹ اپنے پاس رکھنے والے کفیل کو5 ہزار ریال جرمانہ کیاجائے گااور دوبارہ ایسا کرنے پر عائد کیا جانے والا جرمانہ بھی دوگنا ہوجائے گا، تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر یا پھر زیادہ کام کروانے پر مجبور کرنیوالے کفیل کے گرد بھی سعودی حکومت نے شکنجہ کسنے کی تیاری کر لی ہے.عرب میڈیا نے وزارت لیبر کے نئے قوانین سے متعلق بتایا کہ ملازمین کو کنٹریکٹ کی کاپی نہ فراہم کرنیوالے کفیل کو 5 ہزار سعودی ریال جرمانہ کیاجائے گایعنی پاسپورٹ اپنے پاس رکھنا اور کنٹریکٹ کی کاپی نہ دینا دونوں ہی قابل سزا جرم قرارپائے ہیں۔ ایسا کفیل جو اپنے کنٹریکٹ سے ہٹ کر ملازمین سے کوئی کام کروائے، اسے 15 ہزار سعودی ریال جرمانہ کیاجائے گا یا ایسے اخراجات کا مطالبہ کرے جو اس کی ذمہ داری ہے. سعودی گزٹ کی رپورٹ کے مطابق اگر ملازمین کی تنخواہوں کی ادائیگی میں تاخیر ہوئی یا اضافی ادائیگی کے بغیر کارکنان کو زیادہ وقت کام کروایاگیا یا پھر سرکاری چھٹیوں کے دوران کام پر مجبور کیاگیا تو متعلقہ کمپنیوں پر بھی جرمانہ عائد ہوگا۔ کارکنان سے گرمی یا خراب موسم میں مناسب احتیاطی تدابیر کے بغیر کام کروانا بھی قانونی خلاف ورزی قرارپایاہے۔ حفاظتی اقدامات اور صحت کے معیار پر سمجھوتہ کرنیوالی کمپنیوں پر پچیس ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔نئے قوانین کے مطابق اگر کوئی کمپنی کم ازکم 12فیصد سعودی ملازمین کو تربیت فراہم نہیں کرتی تو بھی مالک پر جرمانہ عائد ہوگا، اگر کسی کمپنی نے سعودی ملازمین کی جعلی بھرتی کادعویٰ کیاتو 25 ہزار سعودی ریال جرمانہ ہوگا، اگر کسی مالک نے سعودی شہریوں کے لیے مخصوص نوکریوں پر غیرملکیوں کورکھا توایسی کمپنی کو5 دن کیلئے بند کردیا جائے گا. وزارت لیبر نے مزید واضح کیاہے کہ اگر کسی غیرملکی کو ویزا بیچاگیاتو 50 ہزار اور لائسنس کے بغیر غیرملکی شہری کو ملازمت پر رکھنے پر 45 ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔ ایسی نوکریاں جوخواتین کیلئے مخصوص کی گئی ہیں، ان پر مردوں کو رکھنے پر 10 ہزار ریال ہرمرد ملازم کے حساب سے جرمانہ کیاجائے گااور کمپنی ایک دن کیلئے بند کردی جائے گی اور اسی طرح خواتین کو مردوں کیساتھ کام کرنے یا پھر پابندی والے اوقات میں کام پر مجبور کرنے پر 5ہزار سے 10 ہزار ریال تک جرما نے ہیں۔وزارت نے یہ بھی واضح کیاہے کہ وزارت سے لائسنس حاصل کیے بغیر دفاتر میں بھرتی کا عمل شروع یا وزارت کو اپنی سروسز رجسٹرڈ نہ کرانے پر 10 ہزار سے 20 ہزار ریال جرمانہ ہوگالیکن اگر معلومات غلط دی گئیں تو 25ہزار ریال اور وزارت کے تحقیقاتی افسران کے کام میں خلل ڈالنے پر 10ہزار ریال جرمانہ ہوگا۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ ایک غلطی دوبارہ دہرائی گئی تو جرمانہ بھی دوگنا ہوجائے گا اور جرمانہ ایک مہینے کے اندر ہی اداکرنے کی ہدایت کی گئی ورنہ اسے دوبارہ قانونی خلاف ورزی قراردیاجائے گاتاہم شکایت کے بعد متعلقہ کمپنیاں 60دن کے اندر اپیل کرسکتی ہیں۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…