جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

ٹرمپ کی غزہ جنگ بندی منصوبے کے مجوزہ 20 نکات کی تفصیلات سامنے آگئیں

datetime 30  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں غزہ امن معاہدے کا اعلان کیا اور بتایا کہ اس پر تمام مسلم اور عرب ممالک نے اتفاق کیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ کی جانب سے غزہ میں جنگ بندی کے لیے پیش کیے گئے 20 نکات کی تفصیلات بھی سامنے آگئی ہیں، جنہیں امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے دو حکومتوں کے حکام کے حوالے سے رپورٹ کیا۔

ٹرمپ کے مجوزہ 20 نکات برائے غزہ جنگ بندی

رپورٹ کے مطابق معاہدے میں فوری جنگ بندی، موجودہ محاذوں کو منجمد کرنے، 48 گھنٹوں میں تمام 20 زندہ یرغمالیوں کی رہائی اور 24 جاں بحق افراد کی باقیات واپس کرنے کی شقیں شامل ہیں۔

اس معاہدے کے تحت اسرائیل نہ صرف 250 عمر قید کے فلسطینی قیدی رہا کرے گا بلکہ 7 اکتوبر 2023 کے بعد گرفتار ہونے والے تقریباً 1700 غزہ کے شہریوں کو بھی آزاد کیا جائے گا، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔

مزید یہ کہ منصوبے میں حماس کے تمام جارحانہ ہتھیاروں کی تلفی، ہتھیار ڈالنے والے جنگجوؤں کے لیے عام معافی اور غزہ چھوڑنے کے خواہش مند ارکان کو محفوظ راستہ دینے کا ذکر ہے۔

امریکی صدر کے ایجنڈے میں غزہ میں انسانی امداد کی فوری اور مساوی فراہمی، جبری بے دخلی پر پابندی، واپس آنے والوں کے لیے واپسی کا حق، اور مستقبل میں غزہ کی سیاست میں حماس کے کردار کو ختم کرنے کی تجاویز بھی شامل ہیں۔

منصوبے کے مطابق فلسطینی اور بین الاقوامی ماہرین پر مشتمل ایک عارضی عبوری حکومت قائم کی جائے گی جو ایک نئی عالمی تنظیم کے تحت کام کرے گی، جبکہ غزہ میں امن و امان قائم رکھنے کے لیے بین الاقوامی سیکیورٹی فورس بھی تعینات ہوگی۔

صدر ٹرمپ کے منصوبے میں غزہ کی تعمیرِ نو کے لیے اقتصادی ترقیاتی پروگرام اور فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات کا بھی ذکر ہے تاکہ مستقبل میں وہ غزہ کا انتظام سنبھال سکے۔

معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوج مرحلہ وار غزہ سے نکلے گی، اسرائیل کو دوبارہ قبضہ یا الحاق کی اجازت نہیں ہوگی، اور قطر پر مزید حملے نہ کرنے کی یقین دہانی بھی دی گئی ہے۔

آخر میں منصوبے میں فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے ایک قابلِ اعتماد راستہ فراہم کرنے، اسرائیل اور فلسطین کے درمیان مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے اور خطے میں پُرامن بقائے باہمی کو فروغ دینے پر زور دیا گیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ مسلم ممالک نے اس منصوبے کی بھرپور حمایت کی ہے، جبکہ پاکستان کے وزیرِاعظم شہباز شریف اور فوج کے سربراہ جنرل عاصم منیر نے بھی اس امن منصوبے کی تائید کی ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…