پیر‬‮ ، 14 ستمبر‬‮ 2026 

گاڑیوں کے شوقین افراد کیلئے خوشخبری

datetime 24  ستمبر‬‮  2025 |

اسلام آباد (این این آئی)وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) نے 5 سال پرانی گاڑیوں کی درآمد کی اجازت دیدی تاہم اس پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی۔وزارت خزانہ کی جانب سے جاری اعلامیے میں بتایا گیا کہ وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کا اجلاس وزارتِ خزانہ میں منعقد ہوا، جس کی صدارت وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات سینیٹر محمد اورنگزیب نے نیویارک سے ورچوئل طور پر کی۔اجلاس میں وفاقی وزیر برائے پٹرولیم علی پرو یز ملک، وفاقی وزیر برائے قومی غذائی تحفظ و تحقیق رانا تنویر حسین، وفاقی وزیر برائے توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی سیکریٹریز اور متعلقہ وزارتوں و ریگولیٹری اداروں کے سینئر حکام نے شرکت کی۔

اعلامیے کے مطابق ای سی سی نے استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد سے متعلق سمری پر غور کیا اور تفصیلی بحث کے بعد تجاویز کی منظوری دے دی۔ای سی سی نے درآمدی پالیسی آرڈر 2022 کی متعلقہ شقوں میں ترمیم کا فیصلہ کیا تاکہ استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد کی اجازت دی جا سکے، ابتدائی طور پر صرف پانچ سال سے پرانی نہ ہونے والی گاڑیوں کو 30 جون 2026 تک درآمد کرنے کی اجازت ہوگی، جس کے بعد گاڑیوں کی عمر کی حد ختم کر دی جائے گی۔مزید برآں اس بات کو یقینی بنانے کی ہدایت دی گئی کہ ایسی کمرشل درآمد ماحولیاتی اور حفاظتی معیارات کی سخت تعمیل کے ساتھ مشروط ہوگی۔کمیٹی نے پانچ سال سے کم استعمال شدہ گاڑیوں کی کمرشل درآمد پر موجودہ کسٹمز ڈیوٹیز کے علاوہ 40 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی (آر ڈی) عائد کرنے کی بھی منظوری دی، یہ اضافی ڈیوٹی 30 جون 2026 تک نافذ العمل رہے گی۔اعلامیے کے مطابق جس کے بعد یہ ڈیوٹی ہر سال 10 فیصد پوائنٹس کم کی جائے گی اور 30ـ2029 تک مکمل طور پر ختم ہو جائے گی، جیسا کہ ٹیرف پالیسی بورڈ کی سفارشات میں تجویز کیا گیا ہے۔کابینہ ڈویژن کی جانب سے پیش کی گئی ایک اور سمری پر غور کے بعد ای سی سی نے پاکستان ورچوئل ایسٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے حق میں 80 کروڑ روپے کی تکنیکی ضمنی گرانٹ کی منظوری دی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)


ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…