ہفتہ‬‮ ، 29 ‬‮نومبر‬‮ 2025 

سینٹرل کانٹریکٹ کا اعلان:کوئی کھلاڑی اے کیٹیگری کا اہل نہ ہونے سے کیٹیگری ختم

datetime 19  اگست‬‮  2025 |

لاہور(این این آئی) پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) نے 26ـ2025 سیزن کے لیے سینٹرل کنٹریکٹس کا اعلان کر دیا، قومی ٹیم کا کوئی کرکٹر اے کیٹیگری کا اہل قرار نہیں پایا جس کے باعث بورڈ نے سینٹرل کنٹریکٹس سے اے کیٹیگری کو ختم کردیا۔نئے سینٹرل کنٹریکٹس کے تحت اس بار 30 کھلاڑیوں کو کنٹریکٹس دیئے گئے ہیں، یہ معاہدے یکم جولائی 2025 سے 30 جون 2026 تک مؤثر رہیں گے۔

گزشتہ سال 27 کھلاڑی کنٹریکٹ یافتہ تھے تاہم اس بار تعداد بڑھ کر 30 ہو گئی ہے جبکہ 12 نئے کھلاڑی پہلی مرتبہ شامل ہوئے ہیں، ان میں احمد دانیال، فہیم اشرف، حسن علی، حسن نواز، حسین طلعت، خوشدل شاہ، محمد عباس آفریدی، محمد حارث، محمد نواز، صاحبزادہ فرحان، سلمان مرزا اور سفیان مقیم شامل ہیں۔پی سی بی کے مطابق اے کیٹیگری ختم کر دی گئی ہے، اب پرفارمنس کی بنیاد پر کھلاڑیوں کو بی، سی اور ڈی کیٹیگری میں تقسیم کیا گیا ہے اور ہر کیٹیگری میں 10،10 کھلاڑی رکھے گئے ہیں۔رواں برس اے کیٹیگری میں کسی کھلاڑی کو شامل نہیں کیا گیا اسی لیے یہ کیٹیگری فی الحال ختم کردی گئی ہے، گزشتہ برس اے کیٹیگری میں بابر اعظم اور محمد رضوان کو شامل کیا گیا تھا۔

اس سال نسیم شاہ بی سے سی کیٹیگری میں آ گئے ہیں، بی کیٹیگری میں شامل ٹیسٹ کپتان شان مسعود بی سے ڈی کیٹیگری میں چلے گئے ہیں اس کے علاوہ اوپنر فخر زمان کی بی کیٹیگری میں واپسی ہوئی ہے۔بابر اعظم، محمد رضوان، شاہین شاہ آفریدی، فخر زمان، شاداب خان، ابرار احمد، حارث رؤف، حسن علی، صائم ایوب اور سلمان علی آغا بی کیٹیگری میں شامل ہیں۔عبداللہ شفیق، نسیم شاہ، سعود شکیل، فہیم اشرف، ساجد خان، محمد نواز، محمد حارث، صاحبزادہ فرحان، حسن نواز اور نعمان علی کو سی کیٹیگری میں رکھا گیا ہے۔ٹیسٹ کپتان شان مسعود، حسین طلعت، محمد عباس، محمد وسیم جونیئر، خوشدل شاہ، احمد دانیال، سلمان مرزا، عباس آفریدی، خرم شہزاد اور صفیان مقیم ڈی کیٹیگری میں شامل ہیں۔ذرائع کے مطابق اس سال 9 کھلاڑی اپنی سابقہ کیٹیگری برقرار رکھنے میں کامیاب رہے جبکہ 8 کھلاڑی کنٹریکٹ حاصل کرنے میں ناکام ہو گئے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



جنرل فیض حمید کے کارنامے(چوتھا حصہ)


عمران خان نے 25 مئی 2022ء کو لانگ مارچ کا اعلان کر…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(تیسرا حصہ)

ابصار عالم کو 20اپریل 2021ء کو گولی لگی تھی‘ اللہ…

جنرل فیض حمید کے کارنامے(دوسرا حصہ)

عمران خان میاں نواز شریف کو لندن نہیں بھجوانا…

جنرل فیض حمید کے کارنامے

ارشد ملک سیشن جج تھے‘ یہ 2018ء میں احتساب عدالت…

عمران خان کی برکت

ہم نیویارک کے ٹائم سکوائر میں گھوم رہے تھے‘ ہمارے…

70برے لوگ

ڈاکٹر اسلم میرے دوست تھے‘ پولٹری کے بزنس سے وابستہ…

ایکسپریس کے بعد(آخری حصہ)

مجھے جون میں دل کی تکلیف ہوئی‘ چیک اپ کرایا تو…

ایکسپریس کے بعد(پہلا حصہ)

یہ سفر 1993ء میں شروع ہوا تھا۔ میں اس زمانے میں…

آئوٹ آف سلیبس

لاہور میں فلموں کے عروج کے زمانے میں ایک سینما…

دنیا کا انوکھا علاج

نارمن کزنز (cousins) کے ساتھ 1964ء میں عجیب واقعہ پیش…

عدیل اکبرکو کیاکرناچاہیے تھا؟

میرا موبائل اکثر ہینگ ہو جاتا ہے‘ یہ چلتے چلتے…