پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

سائنسدانوں نے”نرم دل ”تیار کرلیا

datetime 20  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوزڈ ڈیسک)مصنوعی دل کا صرف ایک ہی مقصد ہوتا ہے اور وہ ہے خون پمپ کرنا، لیکن آج کل کے مصنوعی دل عموما مشینی آلے ہوتے ہیں جو گوشت پوست کے انسان میں کچھ معیوب محسوس ہوتے ہیں۔اب کارنل یونیورسٹی کے سائنس دانوں نے فوم سے بنا ایک مصنوعی دل تیار کیا ہے جو ناصرف کام میں قدرتی دل جیسا ہے بلکہ دکھائی بھی ویسا ہی دیتا ہے۔یہ فوم دراصل ایک نیا پولیمر ہے جو کسی بھی شکل میں ڈھل سکتا ہے، جس کے اندر موجود مساموں سے خون پمپ ہو سکتا ہے۔کارنل یونیورسٹی کی اس دریافت سے اگر حقیقی مصنوعات بننے لگیں تو اس کا سب سے بہترین اور محفوظ استعمال مصنوعی اعضا بنانے میں ہو گا۔یہ فوم نا صرف نرم اور لچکدار ہے بلکہ زیادہ موثر بھی ہے، جس سے انفرادی مریضوں کی ضرورت کے مطابق باآسانی مختلف سائزوں میں ڈھالا جا سکتا ہے۔اس فوم کو روبوٹک شعبے میں بھی بھرپور طریقے سے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…