ہفتہ‬‮ ، 18 جولائی‬‮ 2026 

موبائل فون ٹیکسٹ کا جنون چھوٹے بچوں کو ”کبڑا“ بناسکتا ہے، طبی ماہرین

datetime 12  ستمبر‬‮  2016 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )آسٹریلیا کے ایک ڈاکٹر کے مطابق سات سال تک کے بچوں میں ٹیکسٹ کرنے کا جنون ان کی گردن اور ریڑھ کی ہڈیوں پر اثرانداز ہوکر انہیں ’کبڑا‘ بنارہا ہے اور ان کے مہرے ٹیڑھے ہورہے ہیں۔ڈاکٹر جیمز کارٹر کے مطابق یہ نئی اور پریشان کن صورتحال ٹیکنالوجی کے بے تحاشہ استعمال کی وجہ سے سامنے آئی ہے اور اس سے سب سے ذیادہ اسکول جانے والے بچے متاثر ہورہے ہیں۔ اس نئی کیفیت کو ”ٹیکسٹ نیک یا ٹیکسٹ گردن“ کہا گیا ہے اور ایک 16 سال کی لڑکی اور 17 سال کا ایک نوجوان پہلے ہی اس سے متاثر ہوچکے ہیں کیونکہ ان کی کمر اور گردن خمدار ہوچکی ہے کیونکہ وہ دن میں کئی گھنٹے تک گردن جھکاکر اپنے فون کو دیکھتے رہتے تھے اور ایس ایم ایس کرتے رہے تھے۔ٹیکسٹ کرنے کی لت میں مبتلا کئی نوعمر بچے اور جوان ڈاکٹروں کے پاس کمر، گردن اور سردرد کی شکایت لے کر آرہے ہیں اور ان کے ایکسرے میں مہروں اور گردن کا خم صاف نظر آتا ہے۔ ڈاکٹروں کے مطابق گردن کو غیرضروری طور پر جھکانے اور موڑنے سے اس کی ہڈیاں 4 سینٹی میٹر تک کھسک سکتی ہیں اور اسمارٹ فون کے مسلسل استعمال سے گردن کو بہت نقصان پہنچتا ہے۔ اس کا بہتر حل ہے کہ موبائل فون کو بار بار دیکھنے سے گریز کیا جائے۔پاکستانی بچے بھی دن میں 50 سے زائد مرتبہ فون پر نظر جماتے ہیں اور گھنٹوں واٹس ایپ استعمال کرتے ہوئے ٹیکسٹ میں محورہتے ہیں اور دن میں چار گھنٹے تک فون پر گزارتے ہیں۔دوسری جانب ڈاکٹر خبردار کررہے ہیں کہ اگر یہ مرض شدت اختیار کر جائے تو بسا اوقات آپریشن کے بغیر کوئی اور چارہ نہیں رہ جاتا۔ اسی لیے ٹیکسٹ کرتے وقت ٹھوڑی کو سینے سے دور رکھیئے۔ دوسری خطرناک بات یہ ہے کہ گردن جھکانے سے اینڈورفنز اور سیروٹونن جیسے اہم ہارمون کا اخراج رک جاتا ہے اور اس سے بے چینی اور پریشانی میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔اگرچہ انسانی سر کا وزن 10 سے 12 پونڈ ہوتا ہے لیکن گردن کو 15 درجے پر جھکانے سے اس کا بوجھ 27 پونڈ تک ہوجاتا ہے اور 60 درجے پر جھکانے سے 60 پونڈ ہوجاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…