اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ قتل کی فرضی سازش پر مبنی فلم نے ڈیڑھ کروڑ ڈالرکما لئے

datetime 29  دسمبر‬‮  2014 |

واشنگٹن۔۔۔۔سونی پکچرز کی متنازع فلم ’دا انٹرویو‘ اپنی ریلیز کے صرف چار دن بعد ہی آن لائن پر اس سٹوڈیو کی آج تک کی سب سے زیادہ کمائی کرنے والی فلم بن گئی ہے۔یہ فلم کرسمس کے موقعے پر 24 د سمبر کو ریلیز ہوئی تھی اور اپنی ریلیز کے بعد 27 دسمبر تک یہ 20 لاکھ بار ڈاؤن لوڈ کی جا چکی ہے۔اس دوران اس نے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کا بزنس کیا ہے۔یہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے قتل کی فرضی سازش پر مبنی ہے جس کی ریلیز پہلے تو روک دی گئی تھی لیکن بعد میں سونی پکچرز نے اپنے فیصلے میں تبدیلی کرتے ہوئے اسے مختصر پیمانے پر ریلیز کر دیا۔اس فلم نے شمالی کوریا کو ناراض کیا اور یہ الزام عائد کیا جاتا ہے کہ سونی سٹوڈیوز پر ہونے والے سائبر حملے میں اس ملک کا ہاتھ تھا۔سونی پکچرز کی یہ فلم شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کو قتل کرنے کی فرضی سازش پر مبنی ہے۔ہیکنگ کا یہ حملہ ’گارڈیئن آف پیس‘ یعنی امن کے رکھوالے نامی گروپ کی جانب سے کیا گیا تھا اور اس کے نتیجے میں سونی پکچرز کی بعض آنے والی فلموں کے سکرپٹ، خفیہ ای میلز اور اداکاروں کی تنخواہ کے راز افشا کر دیے گئے تھے۔اس کے بعد اس فلم کی ریلیز کے نتیجے میں مزید حملوں کی دھمکی دی گئی تھی جس کی وجہ سے سونی پکچرز نے اس کی ریلیز ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔لیکن امریکی صدر سمیت بہت سے لوگوں نے اسے اظہار رائے کی آزادی پر آنچ سے تعبیر کیا تھا۔امریکی تفتیشی ادارے ایف بی آئی نے اپنی تازہ تفتیش میں کہا ہے کہ ہیکنگ کے شواہد شمالی کوریا کی جانب اشارہ کرتے ہیں جبکہ شمالی کوریا نے اس سے انکار کیا ہے، تاہم اسے اچھا عمل بتایا ہے۔آن لائن ریلیز ہونے والی یہ سونی سٹوڈیوز کی کامیاب ترین فلم ہے۔سونی نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ اس فلم کو امریکہ اور کینیڈا میں گوگل کی سروسز یوٹیوب اور پلے اور مائیکروسافٹ کے ایکس باکس ویڈیو اور اپنی مخصوص ویب سائٹ پر 5.99 ڈالر قیمت پر 48 گھنٹوں کے لیے کرائے پر فراہم کیا گیا تھا، جبکہ اس کی مستقل قیمت 14.99 ڈالر رکھی گئی تھی۔اگرچہ اسے امریکہ کے بڑے سینماؤں میں نہیں دکھایا گیا تاہم محدود پیمانے پر ریلیز کے باوجود اسے خاصی پذیرائی ملی۔سنیچر کو ایک بیان میں شمالی کوریا میں این ڈی سی کے ترجمان نے فلم کی ریلیز کے لیے امریکہ کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ’اس غیر ایماندار اور رجعت پسند فلم کے ذریعے ڈی پی آر کے (شمالی کوریا) کے رہنما توہین کی گئی ہے اور اس کا مقصد دہشت گردی کو ہوا دینا ہے۔‘بیان میں کہا گیا کہ صدر اوباما اس فعل کے اہم مرتکب ہیں جنھوں نے امریکہ میں سینیما کو بلیک میل کرتے ہوئے سونی پکچرز کو فلم کی ریلیز کے لیے مجبور کیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…