منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

دو سال کی عمر میں اغوا ہوا پاکستانی بچہ 32 سال بعد ماں باپ کو مل گیا

datetime 16  جولائی  2025 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک)اسلام آباد سے تعلق رکھنے والے ایک خاندان کی برسوں پر محیط تلاش بالآخر رنگ لے آئی، جب ان کا بچپن میں اغوا کیا گیا بیٹا تین دہائیوں بعد دوبارہ ان سے آ ملا۔ یہ جذباتی لمحہ ہر اس شخص کے لیے اُمید کی کرن ہے جو آج بھی اپنے کسی بچھڑے ہوئے پیارے کی راہ تک رہا ہے۔یہ واقعہ 1992 کا ہے، جب دو سالہ محمد صدیق، اسلام آباد کے علاقے بری امام سے لاپتہ ہو گیا تھا۔

کچھ ہی عرصے بعد اسے اغوا کر کے پنجاب کے ضلع سرگودھا کے ایک گاؤں، جھانوریا، منتقل کر دیا گیا، جہاں اس کا نام بدل کر محمد آصف رکھ دیا گیا۔آصف کے بقول، اسے ایک خاتون نے اغوا کیا تھا، جس کے ساتھ اس کے تین بھائی اور والدہ بھی رہائش پذیر تھے۔ وہ ایک اور بچے کے ساتھ پرورش پاتا رہا، جو اس کے لیے بڑے بھائی جیسا تھا، اور اسی نے اسے سب سے پہلے شک دلایا کہ وہ شاید اپنے اصل خاندان سے نہیں ہے۔وقت کے ساتھ گاؤں کے لوگ بھی محسوس کرنے لگے کہ یہ بچے اپنے کفیلوں سے مشابہت نہیں رکھتے۔ حالات ایسے ہوئے کہ وہ لوگ گاؤں چھوڑ گئے۔ آصف کا کہنا ہے کہ اسے طویل عرصے تک اپنے اغوا ہونے کا علم نہ تھا، لیکن محبت کی کمی اور لوگوں کی باتوں سے اسے شک ہونے لگا۔تقریباً 10 سال کی عمر میں آصف دوبارہ جھانوریا آیا، جہاں ایک ہمدرد وکیل نے اسے پناہ دی، تعلیم دلوائی اور زندگی سنوارنے میں مدد فراہم کی۔ آصف نے تعلیم میں زیادہ دلچسپی نہ لی مگر ایک ماہر الیکٹریشن بن گیا، 2017 میں شادی کی، اور اپنی محنت سے گھر بھی خریدا۔ تاہم، والدین کی تلاش کی خلش دل میں باقی رہی۔

ایک دن آصف نے سونے کی دکان پر اپنے دل کی بات ایک اجنبی سے کی، جس نے اسے ایک سماجی کارکن، ولی اللہ معروف سے ملوایا۔ معروف گمشدہ افراد کے کیسز پر کام کرتے ہیں اور سوشل میڈیا کے ذریعے ان کے پیاروں تک رسائی کی کوشش کرتے ہیں۔ولی اللہ کی مدد سے بالآخر آصف کا رابطہ اس کے اصل والدین سے ہوا، اور 32 برس بعد ایک ایسا لمحہ آیا جس نے دیکھنے والوں کو رُلا دیا۔ والدین، جو تین دہائیاں اپنے بیٹے کی دعاؤں میں گزار چکے تھے، آخرکار اپنے جگر کے ٹکڑے سے دوبارہ ملے۔آصف کے والدین کا کہنا تھا کہ ایک دن بھی ایسا نہ گزرا جب انہوں نے اپنے بچے کو یاد نہ کیا ہو۔ ان کا بیٹا ان کے لیے دنیا کی سب سے قیمتی چیز تھا، اور یہ ملاقات ان کے لیے نئی زندگی کی مانند ہے۔یہ واقعہ نہ صرف ایک خاندان کے لیے خوشی کا پیغام لایا بلکہ ہزاروں ایسے افراد کے دلوں میں بھی اُمید پیدا کی جو آج بھی اپنے گمشدہ رشتوں کو تلاش کر رہے ہیں۔ رب کی رحمت اور مسلسل کوششیں، آخرکار معجزہ بن کر سامنے آئیں۔یہ سچ ہے — جب نیت نیک ہو، امید قائم رکھی جائے اور کوششیں جاری رہیں، تو ناممکن بھی ممکن ہو جاتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…