منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

چاچا نے دراصل گالیاں کیوں نکالیں؟منظرعام پر آگئے، خود ہی اصل وجہ بتا دی

datetime 16  جولائی  2025 |

اسلا م آباد (نیوز ڈیسک)حال ہی میں سوشل میڈیا پر شدید بارش کے دوران حکومت کو تنقید کا نشانہ بنانے والے بزرگ شہری، جنہیں صارفین نے ’چاچا‘ کا لقب دیا، منظرِ عام پر آ گئے ہیں۔ ایک نجی ادارے سے بات کرتے ہوئے وہ اپنے وکلا کے ہمراہ موجود تھے اور اپنی ویڈیو وائرل ہونے کے پس منظر پر روشنی ڈالی۔چاچا کا کہنا تھا کہ انہوں نے کوئی جرم نہیں کیا بلکہ صرف اپنے دل کی بات کہی، جو ہر پاکستانی کا بنیادی حق ہے۔ ان کے بقول، وہ جذباتی تھے اور دل کی کیفیت زبان پر آ گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا مقصد کسی ادارے یا شخصیت کی توہین نہیں تھا، بلکہ وہ صرف عوام کی مشکلات کی طرف اشارہ کر رہے تھے۔انہوں نے ریاست کے رویے کو سراہتے ہوئے کہا کہ ان کے الفاظ کو منفی انداز میں نہیں لیا گیا بلکہ حکومت نے عوامی احساسات کو سنجیدگی سے لیا، جو کہ ایک خوش آئند بات ہے۔ ساتھ بیٹھے وکیل نے وضاحت دی کہ بارش میں دو بار گرنے کے بعد چاچا نے غصے میں وہ الفاظ ادا کیے، اور یہ سب ایک وقتی کیفیت کا نتیجہ تھا۔رپورٹر کی جانب سے ویڈیو وائرل ہونے اور اس کے نتیجے میں نوکری سے نکالے جانے سے متعلق سوال پر چاچا نے مختصر جواب دیتے ہوئے کہا: “نو کمنٹس”۔اس کے بعد ان سے تھانے میں بنائی گئی ویڈیو اور مبینہ تشدد سے متعلق سوال کیا گیا، جس پر انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی نہیں ہوئی، اور پولیس کا رویہ بہتر تھا۔

وہ خود کو مطمئن محسوس کر رہے تھے کیونکہ ان کا کہنا تھا کہ “جب کسی نے کچھ غلط نہ کیا ہو تو چہرے پر سکون ہی ہوتا ہے۔”چاچا نے مزید کہا کہ ان کا کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ 2024 کے الیکشن میں ووٹ ڈالنے کے سوال پر انہوں نے بتایا کہ انہوں نے اپنا ووٹ استعمال ہی نہیں کیا تھا۔آخر میں جب ان سے مریم نواز سے متعلق وائرل ویڈیو میں دیے گئے بیان پر وضاحت مانگی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کسی شخصیت کا نام نہیں لیا اور یہ سب صرف جذباتی ردعمل تھا۔ان کا کہنا تھا کہ آئندہ انہیں اپنے جذبات پر قابو رکھنا ہوگا، اور یہ ان کی پہلی اور آخری غلطی تھی۔ ریاست کا ظرف بڑا ہے اور اس نے ان کے ردعمل کو درگزر کرتے ہوئے اعلیٰ ظرفی کا مظاہرہ کیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…