پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

بازو پر گیارہ سے زیادہ تل کینسر کا خطرہ تو نہیں ؟

datetime 19  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک ) برطانیہ میں ایک تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ اگر ایک بازو پر گیارہ سے زیادہ تل ہوں تو یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ایسے شخص کو معمول سے زیادہ ’میلانوما‘ یا جلد کے کینسر کا خطرہ لاحق ہے اور دائیں ہاتھ پر تلوں کی گنتی کرنے سے پورے جسم کے تلوں کی تعداد کا بھی پتہ کیا جا سکتا ہے۔ اس تحقیق کو برٹش جرنل آف ڈریمولوجی میں شائع کیا گیا ہے جس میں تین ہزار جڑواں لڑکیوں کے ڈیٹا کو استعمال کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق ڈاکٹر اس دریافت کی مدد سے ان افراد کی نشاندہی آسانی سے کر سکتے ہیں جنہیں جلد کے کینسر یا میلانوما کا زیادہ خطرہ ہو۔ میلانوما ایک طرح کا جلد کا کینسر ہے جو جلد کی خلیوں میں خرابی کے سبب خطرناک پھوڑے کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ برطانیہ میں ہر برس تقریباً 13 ہزار افراد اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ یہ بیماری عام طور پر بدن میں پائے جانے والے غیر معمولی تل سے پنپتی ہے۔ اسی لیے میلانوما ہونے کے خطرے کا تعلق تلوں کی تعداد سے ہے، یعنی اگر کسی کو بہت زیادہ تل ہیں تو اسے اس بیماری سے متاثر ہونے کا زیادہ خطرہ بھی ہے۔ لندن میں کنگز کالج کے محقیقین نے اس کے لیے آٹھ برس تک بڑی تعداد میں جڑواں لڑکیوں پر کام کیا اور ان کے جسم کی جلدکی نوعیت، اس پر پڑے دھبوں اور تلوں سے متعلق تحقیق کی۔ پھر بعد میں میلانوما سے متاثر چار سو افراد پر مشتمل مرد اور خواتین کے ایک گروپ پر اس تجربے کو دہرایا گیا جس سے انہیں اس طرح کے کینسر کے خطرے کے بارے میں معلومات حاصل کرنے کا ایک تیز اور آسان طریقہ ملا۔ جن خواتین کے دائیں بازو پر سات سے زیادہ تل تھے ان کے جسم میں پچاس سے زیادہ تل ہونے اور نو گنا بیماری کا خطرہ تھا اور جن کے دائیں بازو پر گیارہ تل ہوں ان کے جسم بھر میں 100 سے زائد تل پائے گئے اور اس طرح انہیں اس بیماری کا اور زیادہ خطرہ ہوگا۔ اس موضوع پر تحقیق کرنے والے کنگز کالج کے سینیئر رکن سائمن ریبیرو کا کہنا ہے یہ دریافت ابتدا میں اس سے متعلق احتیاط برتے میں بہت کارآمد ثابت ہوسکتی ہے، عام ڈاکٹر بھی اس طریقے سے مریض کے جسم میں تلوں کی صحیح تعداد کا جلدی سے درست تخمینہ لگا سکتے۔ اس تحقیق سے وابستہ ٹیم کے ایک دوسرے رکن ویرونک بیتیلی کا کہنا ہے کہ اگر کوئی شخص اپنے کسی ایک غیر معمولی تل سے پریشان ہے اور اس وجہ سے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑا تو اس کے ایک بازو پر تل کی تعداد سے ہی خطرے کی گھنٹی بج سکتی ہے اور اس سے پھر وہ بلا تاخیر مخصوص ڈاکٹر کے پاس علاج کے لیے جا سکتا ہے۔ برطانیہ میں کینسر ریسرچ سے متعلق ادارہ سے وابستہ ڈاکٹر کلیئر نائٹ کا کہنا ہے یہ تحقیق کسی حد تک مددگار تو ہے لیکن یہ کوئی ضروری نہیں کہ میلانوما نامی بیماری بدن پر پائے جانے والے تل سے ہی پنپتی ہے۔ ان کہنا تھا کہ جلد کے ایسے کینسر کے کیسز نصف سے بھی کم تل سے پیدا ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ میلانوما تو جسم کے کسی بھی حصے پر تل کے بغیر بھی پیدا ہوسکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…