جمعرات‬‮ ، 10 ستمبر‬‮ 2026 

عافیہ صدیقی کیس،اسلام آباد ہائیکورٹ کا وزیراعظم کیخلاف کارروائی کا عندیہ

datetime 11  جولائی  2025 |

اسلام آباد(این این آئی)اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس میں وفاقی حکومت کی جانب سے رپورٹ پیش نہ کرنے پر شدید برہمی کا اظہار کیا، عدالت نے وزیراعظم اور وفاقی وزرا کو توہین عدالت کے نوٹس جاری کرنے اور عدالت طلب کرنے کا عندیہ بھی دے دیا۔اسلام آباد ہائی کورٹ میں ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی، صحت اور وطن واپسی سے متعلق کیس کی سماعت جسٹس سردار اعجاز اسحٰق خان نے کی۔

ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کی درخواست پر سماعت کے دوران ان کے وکیل عمران شفیق جبکہ وفاق کی جانب سے ایڈیشنل اٹارنی جنرل راشد حفیظ عدالت میں پیش ہوئے۔جسٹس اعجاز اسحق خان نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل سے استفسار کیا کہ ڈاکٹر عافیہ کے معاملے پر معاونت سے انکار کی وجوہات پر مبنی رپورٹ طلب کی گئی تھی لیکن تاحال عدالت میں پیش نہیں کی گئی۔جسٹس اعجاز اسحق خان نے سخت ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ اگر رپورٹ پیش نہ کی گئی تو پوری وفاقی کابینہ کو عدالت میں طلب کیا جائے گا، کیوں نہ وفاقی کابینہ کے تمام وزرا کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی شروع کی جائے؟ یہ عدالت صرف کابینہ ہی نہیں بلکہ وزیراعظم کے خلاف بھی کارروائی کر سکتی ہے۔

عدالت نے واضح کیا کہ جون میں وفاقی حکومت سے جواب طلب کیا گیا تھا لیکن تاحال کوئی رپورٹ موصول نہیں ہوئی۔جسٹس اعجاز اسحق خان نے وفاق کو 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے کہا کہ رپورٹ ہر صورت عدالت میں پیش کی جائے، ایڈیشنل اٹارنی جنرل نے عدالت سے 5 ورکنگ دنوں کی مہلت مانگی جس پر جسٹس اعجاز اسحٰق خان نے کہا کہ اگلے ہفتے سے ان کی سالانہ چھٹیاں شروع ہو رہی ہیں۔بعد ازاں عدالت نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل کی استدعا پر کیس کی سماعت 21 جولائی تک ملتوی کر دی۔اس موقع پر ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے وکیل عمران شفیق نے وزیراعظم اور کابینہ سے ملاقات کے لیے ایک متفرق درخواست دائر کرنے کا بھی ذکر کیا، جسٹس اعجاز اسحاق خان نے ریمارکس دیے کہ فوزیہ صدیقی وزیراعظم سے مل کر کیا کریں گی؟ کیا وزیراعظم کو عافیہ صدیقی کے معاملے کا علم نہیں۔عدالت نے واضح کر دیا کہ اب مزید تاخیر برداشت نہیں کی جائے گی اور 21 جولائی کو اگلی سماعت میں وفاقی حکومت کی رپورٹ ہر صورت پیش کی جائے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)


ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…