منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

پاکستان گوشت کی کھپت کے حوالے سے تیسرے نمبرپر آ گیا َََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََََٓ

datetime 18  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(آن لائن )پاکستان گوشت کی کھپت کے حوالے سے تیسرے نمبرپرہے جبکہ عیدالاضحیٰ پرتین دنوں میں ہرسال چھ کروڑ سے زائد جانوروں کی قربانی دی جاتی ہے جس میں ہرسال 19سے 34فیصداضافہ ہورہاہے ایک رپورٹ کے مطابق لائیو اسٹاک پاکستان کے 2013ءکے سروے کے مطابق ملک بھر میں گائے بیل کی تعداد تقریباً 38.3 ملین، بھینسوں کی تعداد 33.7 ملین، بھیڑوں کی تعداد 28.8 ملین بکری، دنبے کی تعداد 64.9 ملین اور اونٹوں کی تعداد تقریباً 1 ملین کے قریب ہے۔ حلال گوشت کی عالمی منڈی میں پاکستانی مارکیٹ کا تناسب 7 ویں نمبر پر ہے۔ اکنامک سروے آف پاکستان کی-14 2013 کی رپورٹ کے مطابق مذکورہ سال میں پاکستان میں گوشت کی کھپت 779000 ٹن تھی۔ یہ پاکستان میں بکرے / بھیڑ کے گوشت کی سالانہ کھپت کا محتاط اندازہ ہے۔جس کے لحاظ سے پاکستان دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر ہے۔ 1.9 ملین ٹن بڑے گوشت کی کھپت نے اسے دنیا کے گوشت کے صارف ممالک میں آٹھویں نمبر پر لا کھڑا کیا ہے، جب کہ قربانی کے تین دنوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً 6 کروڑ کے قریب جانوروں کی ملک بھر میں قربانی دی جاتی ہے، جب کہ پولٹری کے گوشت کی کھپت 8,84000 ٹن ہونے کی وجہ سے دنیا بھر میں اس حوالے سے پاکستان دنیا میں بیسویں نمبر پر ہے۔ ان اعداد و شمار سے لائیو اسٹاک کے کاروبار سے منسلک افراد کا ملکی ذرمبادلہ اور معیشت میں تناسب کا اندازہ لگانا چنداں مشکل نہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…