جمعہ‬‮ ، 13 مارچ‬‮ 2026 

ایرانی یورینیم کہاں ہے ؟ رپورٹوں میں فوردو سے زیادہ محفوظ ایک نئی تنصیب کا انکشاف

datetime 27  جون‬‮  2025 |

تہران (این این آئی )ایران کے افزودہ یورینیم کی گمشدگی اب بھی امریکا اور اسرائیل دونوں کے لیے تشویش کا باعث ہے۔ اس جانب کئی خفیہ رپورٹوں نے اشارہ کیا ہے، جن میں سیٹلائٹ تصاویر بھی شامل ہیں جنھوں نے امریکی حملے سے ایک دن قبل فردو تنصیب کے قریب غیر معمولی سرگرمیوں کا انکشاف کیا، جہاں متعدد ٹرکوں کی غیر معمولی نقل و حرکت دیکھی گئی۔

میڈیارپورٹس کے مطابق امریکہ نے بی-2 اسٹیلتھ بم بار طیاروں کے ذریعے اپنے روایتی ہتھیاروں میں سب سے بڑے بموں کو ایرانی جوہری تنصیبات پر گرایا، تاکہ ایسے مقامات کو تباہ کیا جا سکے جن میں پہاڑ کے نیچے واقع فردو کی یورینیم افزودگی کی تنصیب، نطنز کی افزودگی تنصیب اور اصفہان کا تحقیقی ری ایکٹر شامل تھے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بقول یہ حملہ ایرانی جوہری پروگرام کو تباہ کر گیا۔تاہم، اس حملے سے قبل فردو کی افزودگی تنصیب کے باہر 16 ٹرک قطار میں کھڑے دیکھے گئے۔ برطانوی اخبار سے بات کرتے ہوئے ایرانی جوہری پروگرام کے ایک ماہر نے بتایا کہ اس سے قبل کہ امریکہ تنصیبات کو نشانہ بنا سکے ایرانی نظام نے افزودہ یورینیم کی بڑی مقدار کو ایک خفیہ مقام پر منتقل کر دیا تھا۔برطانوی اخبار کے مطابق، افزودہ یورینیم کو چھپانے کی بہترین جگہ کوہ فاس ہے، جو فردو تنصیب سے تقریبا 145 کلومیٹر جنوب میں واقع ہے۔

یہ نطنز کے جوہری مقام کے بہت قریب اصفہان صوبے میں موجود ہے۔خیال کیا جاتا ہے کہ یہ نیا خفیہ مقام زیر زمین ایک گہری جوہری تنصیب ہے جس کی گہرائی زمین کی سطح سے تقریبا 100 میٹر نیچے ہے، جب کہ فردو تنصیب کی تخمینی گہرائی 60 سے 90 میٹر کے درمیان ہے۔ اس اعتبار سے یہ مقام فردو اور نطنز دونوں کے مقابلے میں زیادہ مضبوط تصور کیا جاتا ہے۔فردو کے برعکس، جس میں صرف ایک داخلی سرنگ ہے، کوہ فاس میں کم از کم چار داخلی راستے ہیں، جن میں دو پہاڑ کے مشرقی طرف اور دو مغربی طرف واقع ہیں۔ایران وہاں اس وقت ایک تنصیب تعمیر کر رہا ہے اور اس نے گزشتہ چار برسوں میں اس علاقے کو خاموشی سے وسعت دینے اور اس کے تحفظ کے لیے بھرپور کوششیں کی ہیں۔سیٹلائٹ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہ علاقہ خفیہ طور پر توسیع پا چکا ہے، اور افزودگی کی تنصیب معلوم ہونے والی جگہ کے گرد نئے مضبوط حفاظتی انتظامات بنائے جا چکے ہیں۔سیٹلائٹ تصاویر کے مطابق، پہاڑ کے نیچے واقع اس تنصیب میں پہلے ہی پیچیدہ سرنگوں کا نیٹ ورک تیار کیا جا چکا ہے، اور یہ جدید ترین سکیورٹی نظام سے لیس ہے۔ماہرین کا خیال ہے کہ اس منصوبے کی وسعت سے اندازہ ہوتا ہے کہ ایران اس تنصیب کو صرف سینٹری فیوجز بنانے کے لیے نہیں بلکہ یورینیم کی افزودگی کے لیے بھی استعمال کر سکتا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



مذہبی جنگ(دوسرا حصہ)


بنی اسرائیل نے فلسطین واپسی کے بعد یہودا قبیلے…

مذہبی جنگ

رچرڈ نکسن امریکا کے 37ویں صدر تھے‘ یہ بھی ڈونلڈ…

اینڈ آف مسلم ورلڈ

ہمیں ایران امریکا جنگ کے نتیجے کو سمجھنے کے لیے…

عربوں کا کیا قصورہے؟

ایف 35 دنیا کا مضبوط اور مہلک ترین فائٹر جیٹ ہے‘…

اختتام کا آغاز

’’ہمارے پاس صرف 35 سال ہیں‘ ہم ان میں جتنا جی…

امانت خان شیرازی

بادشاہ اس وقت برہان پور میں تھا‘ مغل دور میں…

ہائوس آف شریف

جنرل غلام جیلانی نے جنرل ضیاء الحق کو آرمی چیف…

نواز شریف کی سیاست میں انٹری

لارنس گارڈن کے کرکٹ گرائونڈ میں میچ چل رہا تھا‘…

چوہے کھانا بند کریں

ہندوستان کا کوئی شہزادہ مہاتما بودھ کے پاس گیا…

رعونت پر بکھری ہوئی خاک

کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…