ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

’’اسرائیلی جنگی طیاروں کے پاس یقیناًاضافی فیول ٹینک ہوں گے، اور یہ ایران کیلئے انتہائی پریشانی کی بات ہے کہ۔۔۔ ‘‘ چینی تجزیہ کار نے ایران کی سب سے بڑی کمزوری کی نشاندہی کر دی

datetime 14  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک) حالیہ اسرائیلی فضائی حملوں میں ایران کی ایٹمی تنصیبات، پاسدارانِ انقلاب کے ہیڈکوارٹر اور دیگر کلیدی عمارتوں کو نشانہ بنایا گیا، جن کے نتیجے میں چھ ایرانی سائنسدان اور اعلیٰ فوجی افسران شہید ہو گئے۔ ان حملوں کے بعد عالمی سطح پر بحث چھڑ گئی ہے، اور چینی دفاعی تجزیہ کار نے اس سلسلے میں ایران کی کمزور فضائی دفاعی صلاحیت پر کئی اہم سوالات اٹھائے ہیں۔تفصیلات کے مطابق، چینی تجزیہ نگار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “ایکس” پر ایک پوسٹ میں کہا کہ اسرائیل کے F-35I جنگی طیاروں کی اندرونی ایندھن کے ساتھ پرواز کی حد تقریباً 1200 کلومیٹر ہے، جب کہ اسرائیل سے ایران کے دارالحکومت تہران کا فاصلہ تقریباً 1500 کلومیٹر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فرق ظاہر کرتا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کو اضافی ایندھن کے ٹینک ساتھ لے کر اڑان بھرنا پڑی ہو گی۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اضافی فیول ٹینک F-35I طیاروں کی اسٹیلتھ خصوصیات کو متاثر کرتے ہیں، کیونکہ ایندھن کے ٹینک جہاز کی سطح سے باہر ہوتے ہیں اور ریڈار پر آسانی سے نظر آ سکتے ہیں۔ یہ ممکن ہے کہ اسرائیلی طیارے ایران میں داخل ہونے سے قبل اضافی ٹینک گرا چکے ہوں، لیکن حملے کے دوران جہازوں پر نصب “پائیلونز” باقی رہے ہوں، جو کہ ریڈارز کے لیے نمایاں ہوتے ہیں۔

چینی تجزیہ کار کے مطابق، اس حملے سے ایک بات واضح ہوتی ہے کہ ایران کو اپنے فضائی دفاعی نظام میں نہ صرف ساز و سامان کے لحاظ سے بلکہ افرادی قوت اور تربیت کے حوالے سے بھی سنگین مسائل کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جب اسرائیلی طیارے اسٹیلتھ میں کمی کے باوجود ایران کے حساس علاقوں تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تو یہ ایران کی فضائی نگرانی اور ردعمل کی اہلیت پر ایک سوالیہ نشان ہے۔تجزیہ کار نے ایران کے فضائی دفاعی ڈھانچے کی ازسرِ نو جانچ اور اسے جدید بنانے کی ضرورت پر زور دیا تاکہ مستقبل میں ایسے حملوں کو مؤثر انداز میں روکا جا سکے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…