جمعرات‬‮ ، 16 جولائی‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں کانگو وائرس کے ساتھ ساتھ ڈینگی نے بھی قدم جمانے شروع کر دیئے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا میں کانگو وائرس کے ساتھ ساتھ ڈینگی نے بھی قدم جمانے شروع کر دیئے ہیں ۔پشاورحیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگووائرس کے شکار مریضوں کی تعداد 25 تک جاپہنچی ہے جبکہ رواںسال ڈینگی کے شکار افراد کی تعداد28ہوگئی ہے،ذرائع کے مطابق 28متاثرہ افراد مےں سے زیادہ ترپشاورکے رہائشی ہےں ،جوحیات آباد مےڈیکل کمپلیکس کے مختلف وارڈز میں زیرعلاج ہیں۔خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کا چہرہ پولیو وائرس سے ابھی صاف نہیں ہوا تھا کہ کانگو اور ڈینگی وائرس کے خطرات کے گہرے بادل اس شہر پر منڈلا نے لگے جن میں کانگو کے شکار گیارہ مریض لقمہ اجل بن گئے ۔ذرائع کے مطابق پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میںکانگووائرس کے25 اور ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد جنوری سے لے کر اب تک 28 ہو گئی ہے مگربدقسمتی سے صوبے کے تمام ہسپتالوں میںنہ صرف سہولیات کافقدان ہے بلکہ اس وائرس کے ٹیسٹ کروانے کی قیمت 10 ہزار روپے ہے جو غریب مریضوں کے ساتھ ایک ظلم کے مترادف ہے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سب سے زیادہ کانگو وائرس کے شکار مریض افغانستان سے لائے جاتے ہیں جبکہ خیبر پختونخو اکے مریضوں کی تعداد صرف چار ہے اسی طرح پنجاب کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی ڈینگی نے سر ا±ٹھا لیا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی اور کانگو وائرس کا شکار مریضوں کے لیے کوئی الگ وارڈ تک موجود نہیں ذرائع کے مطابق ڈینگی کی وباءمیں کچھ عرصے سے اضافہ ہو گیا ہے تاہم انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک شہر میں ڈینگی سے بچاو¿ کا کوئی اسپرے تک نہیں کرایا گیاجس کی وجہ سے نہ صرف پشاورشہر میںمچھروں کے راج کی وجہ سے شہریوں کی شکایت میں اضافہ ہوگیا بلکہ ڈینگی کے مریضوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے ہسپتال ذرائع کے مطابق حساس بیماریوں کے لیے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے باربارتحریری خطوط جاری کرنے کے باوجودنہ تو فنڈ جاری کئے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی وارڈ مختص کیا گیا ہے اس بارے میں محکمہ صحت کی خاموشی ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)


سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…

ووزی ناں (Vozinha)

وہ بچپن سے فٹ بال کھیل رہا تھا‘ والد کا انتقال…

چین جائیں

چین ڈیڑھ ارب لوگوں کا ملک ہے‘ دنیا کی ایک چوتھائی…

چین کا نظام

ڈاکٹر عثمان سعید نے مجھے چین کے کلچر کے بارے میں…

گلاس برج سے

ہماری آخری منزل گلاس برج تھا‘ ہم نے یہ 20 جون کو…

دنیا کا سب سے بڑا غار

چانگ چاچے کے مضافات میں ایک اور حیران کن سیاحتی…

اواتار مائونٹین

اواتار فلم 2009 ء میں آئی‘ پوری دنیا میں دیکھی…

فورنگ میں ایک رات

ہماری لینڈ لیڈی کے والدین غریب تھے‘ وہ ٹائون…