منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

خیبرپختونخوا میں کانگو وائرس کے ساتھ ساتھ ڈینگی نے بھی قدم جمانے شروع کر دیئے

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

پشاور(نیوزڈیسک) خیبرپختونخوا میں کانگو وائرس کے ساتھ ساتھ ڈینگی نے بھی قدم جمانے شروع کر دیئے ہیں ۔پشاورحیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں کانگووائرس کے شکار مریضوں کی تعداد 25 تک جاپہنچی ہے جبکہ رواںسال ڈینگی کے شکار افراد کی تعداد28ہوگئی ہے،ذرائع کے مطابق 28متاثرہ افراد مےں سے زیادہ ترپشاورکے رہائشی ہےں ،جوحیات آباد مےڈیکل کمپلیکس کے مختلف وارڈز میں زیرعلاج ہیں۔خیبر پختونخوا کے دارالحکومت پشاور کا چہرہ پولیو وائرس سے ابھی صاف نہیں ہوا تھا کہ کانگو اور ڈینگی وائرس کے خطرات کے گہرے بادل اس شہر پر منڈلا نے لگے جن میں کانگو کے شکار گیارہ مریض لقمہ اجل بن گئے ۔ذرائع کے مطابق پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میںکانگووائرس کے25 اور ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کی تعداد جنوری سے لے کر اب تک 28 ہو گئی ہے مگربدقسمتی سے صوبے کے تمام ہسپتالوں میںنہ صرف سہولیات کافقدان ہے بلکہ اس وائرس کے ٹیسٹ کروانے کی قیمت 10 ہزار روپے ہے جو غریب مریضوں کے ساتھ ایک ظلم کے مترادف ہے پشاور کے حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں سب سے زیادہ کانگو وائرس کے شکار مریض افغانستان سے لائے جاتے ہیں جبکہ خیبر پختونخو اکے مریضوں کی تعداد صرف چار ہے اسی طرح پنجاب کے بعد صوبائی دارالحکومت پشاور میں بھی ڈینگی نے سر ا±ٹھا لیا حیات آباد میڈیکل کمپلیکس میں ڈینگی اور کانگو وائرس کا شکار مریضوں کے لیے کوئی الگ وارڈ تک موجود نہیں ذرائع کے مطابق ڈینگی کی وباءمیں کچھ عرصے سے اضافہ ہو گیا ہے تاہم انتظامیہ ہاتھ پر ہاتھ رکھے بیٹھی ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے ابھی تک شہر میں ڈینگی سے بچاو¿ کا کوئی اسپرے تک نہیں کرایا گیاجس کی وجہ سے نہ صرف پشاورشہر میںمچھروں کے راج کی وجہ سے شہریوں کی شکایت میں اضافہ ہوگیا بلکہ ڈینگی کے مریضوں میں بھی اضافے کا خدشہ ہے ہسپتال ذرائع کے مطابق حساس بیماریوں کے لیے ہسپتال انتظامیہ کی جانب سے باربارتحریری خطوط جاری کرنے کے باوجودنہ تو فنڈ جاری کئے گئے ہیں اور نہ ہی کوئی وارڈ مختص کیا گیا ہے اس بارے میں محکمہ صحت کی خاموشی ایک سوالیہ نشان بنتی جارہی ہے



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…