پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ٹک ٹاکر ثناء قتل کیس: ملزم عمر حیات کے والد کا بیٹے سے متعلق بیان سامنے آگیا

datetime 10  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) اسلام آباد میں معروف ٹک ٹاکر ثناء یوسف کے قتل کیس میں گرفتار مرکزی ملزم عمر حیات عرف “کاکا” کے والد امجد نے اپنے بیٹے پر الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کے دل کو یہ بات قبول نہیں کہ ان کے بیٹے نے ثناء یوسف کو قتل کیا ہے۔

نجی ٹی وی چینل جیو نیوز کے مطابق، ٹک ٹاکر ثناء یوسف کو 2 جون کو وفاقی دارالحکومت کے سیکٹر جی-13 میں قتل کیا گیا، جب کہ پولیس نے اگلے ہی دن یعنی 3 جون کو عمر حیات کو مرکزی ملزم کے طور پر گرفتار کر لیا۔ تفتیش کے دوران عمر حیات نے مبینہ طور پر قتل کا اعتراف بھی کیا، جس کے بعد عدالت نے اسے شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔

حالیہ دنوں میں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو کلپ زیر گردش ہے، جس میں عمر حیات کے والد امجد نے اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ ان کے بیٹے کا ثناء یوسف کے ساتھ کوئی ذاتی تعلق تھا یا اس نے اسے قتل کیا۔

ان کا کہنا تھا، “میرے دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، دونوں بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہیں جبکہ میرا بڑا بیٹا انتقال کر چکا ہے۔ مجھے عمر اور ثناء کے تعلق کا کوئی علم نہیں تھا۔ میں نے بھی محض وہ ویڈیو دیکھی ہے جس میں میرا بیٹا ثناء یوسف کے گھر کے باہر نظر آ رہا ہے، لیکن فائرنگ کرتے ہوئے نظر نہیں آیا۔”

امجد کا کہنا تھا کہ جو ویڈیو سامنے آئی ہے وہ بہت مختصر ہے، اور اس میں قتل کا واضح منظر موجود نہیں۔ ان کا کہنا تھا، “میں نہیں مانتا کہ میرے بیٹے نے قتل کیا ہے، اصل حقیقت اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔”

ایک اور انٹرویو میں ملزم کے والد نے مزید کہا، “اگر میرا بیٹا واقعی قتل میں ملوث پایا جاتا ہے تو قانون کو اس کے خلاف کارروائی ضرور کرنی چاہیے۔ میں انصاف کا طلبگار ہوں، صرف اپنے بیٹے کے لیے نہیں بلکہ اس بے گناہ لڑکی کے لیے بھی جو قتل ہوئی۔ چاہے قتل میرے بیٹے نے کیا ہو یا کسی اور نے، میں اس کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…