پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ملزم عمر مقتول ٹک ٹاکر ثنا سے کس بات پر نا راض ہوا؟ بالآخر اصل وجہ سامنے آگئی

datetime 5  جون‬‮  2025 |

اسلام آباد (کرائم رپورٹر) اسلام آباد کے سیکٹر جی-13 میں 2 جون کو قتل کی جانے والی مشہور ٹک ٹاکر، ثناء یوسف کے قتل کے واقعے سے متعلق اہم اور حیران کن معلومات سامنے آئی ہیں۔

ذرائع کے مطابق، ثناء یوسف اور اس کے مبینہ قاتل عمر حیات عرف “کاکا” کے درمیان رابطہ کافی عرصے سے تھا، اور عمر اس سے دوستی قائم کرنے کی خواہش رکھتا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ دونوں کی ملاقات کا منصوبہ 29 مئی کو بنایا گیا تھا، جو کہ ثناء کی 17ویں سالگرہ کا دن بھی تھا۔

عمر حیات اس روز فیصل آباد سے اسلام آباد پہنچا اور اپنے ہمراہ قیمتی تحائف بھی لایا۔ اس نے تقریباً 6 گھنٹے مسلسل ثناء کو کالز کر کے ملاقات کے لیے اصرار کیا، تاہم ثناء اسے مسلسل ٹالتی رہی اور مختلف بہانوں سے ملاقات مؤخر کرتی رہی۔

بالآخر، اسی دن شام کو ثناء نے صاف الفاظ میں عمر سے ملاقات سے انکار کر دیا، جس پر مشتعل ہو کر عمر حیات تحائف کو وہیں چھوڑ کر واپس فیصل آباد روانہ ہو گیا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ کچھ دنوں بعد دونوں کے درمیان دوبارہ بات چیت شروع ہوئی اور ناراضگی کے بعد صلح بھی ہوگئی، جس کے بعد 2 جون کو دوبارہ ملاقات طے پائی۔

قتل کے دن عمر حیات صبح 5 بجے پبلک ٹرانسپورٹ کے ذریعے اسلام آباد پہنچا اور 26 نمبر چنگی پر اتر کر ایک آن لائن فورچیونر گاڑی کرائے پر حاصل کی۔ اس گاڑی میں سوار ہو کر وہ ثناء کی رہائش گاہ کے قریب پہنچا، مگر گاڑی کچھ فاصلے پر رکوادی اور ثناء کو فون کرتا رہا۔

ذرائع کے مطابق اس وقت ثناء سو رہی تھی اور اس نے عمر کی کالز نہیں سنیں۔ جاگنے کے بعد جب رابطہ بحال ہوا تو ثناء نے عمر کو کچھ دیر انتظار کرنے کو کہا۔ یہ سلسلہ تقریباً 12 گھنٹے تک جاری رہا، اور شام ساڑھے چار بجے کے قریب ثناء نے اپنے والدین کی موجودگی کا حوالہ دے کر عمر سے ملاقات سے انکار کر دیا۔

اسی انکار کے بعد پیش آیا وہ افسوسناک واقعہ، جس نے ثناء یوسف کی زندگی کا چراغ گل کر دیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…