ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

ڈاکٹر عبدالقدیر ایٹمی پاکستان کے خالق ہیں نہ قومی ہیرو ،رانا ثناء اللہ کا محسن پاکستان ماننے سے انکار

datetime 31  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)  وزیراعظم کے سیاسی و عوامی امور کے مشیر رانا ثنااللہ نے ایک انٹرویو کے دوران معروف ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے متعلق متنازع رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ہیرو کا درجہ دینا مناسب نہیں۔

اے آر وائی نیوز کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں رانا ثنااللہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کی دفاعی کامیابیوں، خصوصاً بھارت کے خلاف ایٹمی طاقت کے مظاہرے کا اصل کریڈٹ ملک کی مسلح افواج کو دیا جانا چاہیے۔

انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کے ایٹمی پروگرام کی بنیاد سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی، اور یہ اقدام ہی پاکستان کو جوہری قوت بنانے کی جانب پہلا بڑا قدم تھا۔

ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی خدمات کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ وہ ایک قابلِ احترام سائنسدان ضرور ہیں اور انہیں اس حیثیت میں یاد رکھا جائے گا، مگر وہ کسی صورت ایک قومی رہنما یا ہیرو قرار نہیں دیے جا سکتے۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو ریاستی سطح پر ان کے شایانِ شان مقام دیا گیا، تو رانا ثنااللہ نے جواب دیا کہ جو عزت و پذیرائی ڈاکٹر قدیر کے حصے میں آئی، وہ اس کے حق دار بھی تھے۔ ان کے بقول، اگر کسی شخصیت کو پاکستان کو ایٹمی طاقت بنانے کا اصل ہیرو کہا جا سکتا ہے تو وہ صرف سابق وزیراعظم نواز شریف ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ دنیا بھر میں متعدد سائنسدانوں نے ایٹمی ہتھیار تیار کیے، لیکن اصل کامیابی اس وقت حاصل ہوتی ہے جب کوئی ملک عملی طور پر ایٹمی تجربہ کر کے خود کو جوہری طاقت کے طور پر منوا لے۔ رانا ثنااللہ نے کہا کہ 1998 کے ایٹمی دھماکے اس بات کی دلیل ہیں کہ نواز شریف نے بہادری سے یہ فیصلہ کیا اور ملکی دفاع کو ناقابلِ تسخیر بنایا۔

اپنی گفتگو کے اختتام پر انہوں نے ناقدین کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ بعض افراد صرف ذاتی بغض اور حسد کی بنیاد پر یہ پراپیگنڈا کرتے ہیں کہ نواز شریف ایٹمی دھماکے نہیں کرنا چاہتے تھے، حالانکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…