اتوار‬‮ ، 31 مئی‬‮‬‮ 2026 

افغانستان پر مسلط کی گئی 13 سالہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی، کیا کھویا کیا پایا؟

datetime 28  دسمبر‬‮  2014 |

کابل: افغانستان میں نیٹو نے 13 سال جنگ کے بعد مشن ختم کردیا جب کہ اس حوالے سے دارالحکومت کابل میں خفیہ مقام پر تقریب کا انعقاد کیا گیا جس میں کامیابی کا جشن منایا گیا۔

غیرملکی خبر رساں ادارے کے مطابق افغانستان پر مسلط کی گئی 13 سالہ جنگ اپنے اختتام کو پہنچ گئی جب کہ اس حوالے سے جشن کی تقریب کا انعقاد دارالحکومت کابل میں کیا گیا تاہم سیکیورٹی خدشات اور طالبان کے ممکنہ حملے کے پیش نظر تقریب کو خفیہ رکھا گیا اورحکام کی جانب سے اس میں نہ تو کسی میڈیا کو مدعو کیا گیا اور نہ ہی تقریب کی جگہ کاباقاعدہ اعلان کیا گیا۔ ایساف کے ٹوئٹر پیغام کے مطابق نیٹو کمانڈر جنرل جون کیمپبل نے 50 سے زائد ممالک کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم افغانستان کے عوام کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر روشن مستقبل کی امید دے کر جارہے ہیں اور نیٹو کی قربانیوں کی بدولت اب افغانستان مضبوط اور ہمارے ممالک محفوظ ہوگئے ہیں اور امید ہے کہ ہر فوجی کو افغانستان میں اپنے کام پر فخرہوگا اور آئندہ بھی اسی جوش و جذبے سے مضبوط افغانستان کا عزم لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

دوسری جانب طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کا کہنا تھا کہ نیٹو ممالک کی جشن کی آج ہونے والی تقریب سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ امریکا اور اس کے اتحادی افغانستان میں بری طرح ناکام ہوچکے ہیں اور وہ افغانستان سے بھاگ رہے ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ  افغان جنگ کو ادھورا چھوڑ کر جانے سے لگتا ہے کہ امریکا افغانستان میں اپنے مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہا اوراسے طالبان کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کا سامنا کرنا پڑا ہے۔

واضح رہے کہ افغانستان میں 2001 سے جاری جنگ میں 50 ممالک کے ایک لاکھ 30 ہزار فوجیوں نے حصہ لیا جس میں 3 ہزار 485 فوجی ہلاک ہوئے اور یکم جنوری 2015 کے بعد افغان مشن کے خاتمے کے بعد بھی 12 ہزار 500 نیٹو فوجی افغانستان میں قیام کریں گے جو  افغان آرمی اور پولیس کی تربیت کریں گے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



لکڑی کا تختہ


خوش قسمتی اور بدقسمتی میںلکڑی اور لوہے جیسا فرق…

اللہ سے خوش قسمتی مانگو

’’علم کے ساتھ مقدر بھی چاہیے‘ تم خوش قسمتی کی…

’’پیٹر تم دس دن کہاں غائب رہے‘‘

کیلیفورنیا کے اس نرسنگ سکول کا پرچہ بہت دل چسپ…

پانچ سو ڈالر

وہ محمد منور کو تلاش کر رہا تھا‘ اس نے محمد منور…

تھینک گاڈ

برطانیہ کی کلارک فیملی اس کی شان دار مثال ہے‘…

آئی سٹل لو یو

یہ بنیادی طور پر محبت کی کہانی تھی‘ جارج سمتھ…

’’آزادی کی ہوا چل رہی ہے‘‘

یہ 1882ء کی ایک گرم دوپہر تھی‘ ہارورڈ یونیورسٹی…

موسمی پرندے

’’ مجھے سمجھ نہیں آ رہی‘‘ نوجوان وزیر نے دانشور…

آپریشن بنیان المرصوص (آخری حصہ)

سر ونسٹن چرچل لوگوں کو ہمیشہ خوش نصیبی کی دعا…

آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)

مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…