اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

پاکستان کے جے 35 اے کا خوف، بھارت کی اپنا ففتھ جنریشن فائٹرجیٹ بنانے کی تیاریاں

datetime 28  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک) چین سے حاصل کردہ جدید جے 35 اے لڑاکا طیاروں کی پاکستان فضائیہ میں ممکنہ شمولیت کی خبروں کے بعد بھارتی عسکری حلقوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت نے اپنے پانچویں نسل کے اسٹیلتھ فائٹر جیٹ کی تیاری کے منصوبے کو فوری منظوری دے دی ہے۔ذرائع کے مطابق اس وقت بھارتی فضائیہ 31 اسکواڈرنز پر مشتمل ہے، جبکہ مطلوبہ تعداد 42 ہے۔ جے 35 اے جیسے جدید طیاروں کی پاکستان کے فضائی بیڑے میں آمد کی اطلاعات نے بھارتی دفاعی حکام کو متحرک کر دیا ہے، اور اس نئی صورتحال سے نمٹنے کے لیے ایروناٹیکل ڈیولپمنٹ ایجنسی کو ملکی سطح پر فائٹر جیٹ کی تیاری کا ہدف سونپا گیا ہے۔

اس منصوبے میں نجی و سرکاری اداروں سے پروٹوٹائپ کے لیے تجاویز طلب کی جائیں گی۔تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ یہ اقدام بھارت کی دفاعی مجبوری کو ظاہر کرتا ہے، تاکہ پاکستان کی فضائی برتری کو کسی حد تک متوازن کیا جا سکے۔قابل ذکر بات یہ ہے کہ رواں ماہ پاکستان اور بھارت کے درمیان چار روز تک فضائی محاذ پر شدید تناؤ رہا، جس دوران پاکستان نے جے 10 طیاروں کے ذریعے بھارتی رافیل جیٹس کا مؤثر مقابلہ کیا۔ اسی تناظر میں چین نے پاکستان کو جے 35 اے طیارے جلد فراہم کرنے کی پیشکش کرتے ہوئے اس پر 50 فیصد تک رعایت کی پیشکش بھی کی ہے۔

سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ چین کی جانب سے یہ اقدام حالیہ پاک-بھارت کشیدگی کے بعد پاکستان کے ساتھ اس کے اسٹریٹجک تعاون کو مضبوط بنانے کا حصہ ہے۔ اطلاعات کے مطابق جے 35 اے طیاروں کی پہلی کھیپ اگست 2025 میں پاکستان پہنچنے کا امکان ہے، جن کی تعداد 30 ہوگی۔ان جدید ترین اسٹیلتھ فائٹرز کی شمولیت پاکستان کو فضائی دفاع میں نمایاں برتری دلا سکتی ہے، اور اس پیش رفت نے بھارت کو اپنی فضائی صلاحیتوں کو ازسرنو ترتیب دینے پر مجبور کر دیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…