منگل‬‮ ، 29 ستمبر‬‮ 2026 

مسافروں سے بھرا ہچکولے کھاتے بھارتی طیارے کے پائلٹ کا لاہور اترنے کیلئے پاکستانی حکام سے رابطہ

datetime 26  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک)برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق، 21 مئی کی شام دہلی سے سرینگر جانے والی انڈیگو ایئرلائن کی پرواز دورانِ پرواز شدید موسمی حالات کا شکار ہو گئی۔ طیارے کو پنجاب کے اوپر سے گزرتے ہوئے شدید ژالہ باری کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں مسافر جہاز کے شدید جھٹکوں سے دہل گئے۔220 سے زائد مسافروں کو لے کر جا رہی یہ پرواز جیسے ہی خراب موسم میں داخل ہوئی، فضا میں ہچکولے کھانے لگی اور کچھ لمحوں کے لیے طیارہ بےقابو دکھائی دیا۔

مسافروں نے بیان دیا کہ صورتحال اتنی خوفناک تھی کہ ہر کسی کو اپنی جان کے لالے پڑ گئے تھے۔سرینگر سے تعلق رکھنے والے ایک مسافر سمیع اللہ نے کہا کہ اچانک ایک زوردار جھٹکا محسوس ہوا، یوں لگا جیسے ہماری زندگی کی آخری پرواز ہو۔ لوگ ڈر سے چیخنے لگے اور دعا مانگنے لگے۔پرواز کے عملے نے موسم کی شدت کو دیکھتے ہوئے بھارت کی فضائیہ کے ناردرن کنٹرول سے گزارش کی کہ انہیں بین الاقوامی سرحد کے قریب سے بائیں جانب جانے کی اجازت دی جائے تاکہ خراب موسم سے بچا جا سکے، مگر انہیں اجازت نہیں دی گئی۔پائلٹ نے لینڈنگ سے تقریباً آدھے گھنٹے قبل خطرے سے آگاہ کرتے ہوئے اعلان کیا کہ تمام مسافر فوری طور پر سیٹ بیلٹس باندھ لیں۔ طیارے کی مسلسل ہچکولوں کے باعث پائلٹ کو سرینگر ایئر ٹریفک کنٹرول کو ہنگامی صورتحال کی اطلاع دینا پڑی۔ایک لاجسٹکس کمپنی کے شریک بانی، جو اس پرواز میں موجود تھے، نے بتایا کہ وہ اکثر سفر کرتے ہیں مگر ایسا فضائی جھٹکا انہوں نے پہلے کبھی نہیں محسوس کیا۔ انہوں نے پائلٹ کے بروقت ردِعمل پر شکریہ ادا کیا کہ تمام مسافروں کو بحفاظت اتار لیا گیا۔

مزید یہ بھی رپورٹ کیا گیا ہے کہ عملے نے پاکستانی ایئر ٹریفک کنٹرول (لاہور) سے اجازت مانگی تھی کہ وہ موسم کی خرابی سے بچنے کے لیے پاکستانی فضائی حدود استعمال کر سکیں، تاہم یہ درخواست رد کر دی گئی۔ اس بارے میں بی بی سی اردو نے پاکستان کی سول ایوی ایشن سے رابطہ کیا، لیکن فی الحال کوئی باضابطہ بیان جاری نہیں کیا گیا۔یاد رہے کہ حالیہ دنوں میں پاک بھارت کشیدگی کے باعث دونوں ممالک نے ایک دوسرے کی ایئر لائنز پر اپنی فضائی حدود بند کر رکھی ہیں۔ اس حوالے سے پاکستان کی سول ایوی ایشن اتھارٹی کے سابق افسر ملک نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمومی حالات میں کسی بھی ملک کی فضائی حدود میں ہنگامی داخلے کی اجازت دی جاتی ہے، لیکن موجودہ صورتحال میں یہ درخواست مسترد ہونا متوقع تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…