اتوار‬‮ ، 20 ستمبر‬‮ 2026 

جس پانی پر بھارت کا حق ہے وہ پاکستان کو نہیں ملے گا، نریندر مودی کی دھمکی

datetime 22  مئی‬‮  2025 |

اسلام آباد (نیوذ ڈیسک ) بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے پاکستان کو ایک بار پھر سخت الفاظ میں مخاطب کرتے ہوئے راجستھان میں انتخابی جلسے کے دوران کہا ہے کہ بھارت اب خاموش نہیں رہے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ “جس پانی پر ہمارا حق ہے، وہ ہم پاکستان کو نہیں لینے دیں گے۔”انہوں نے اپنی تقریر میں پاکستان پر کڑی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ بھارت اب کمزور قیادت کے دور سے باہر آ چکا ہے۔ انہوں نے کہا، “پاکستان شاید یہ بھول گیا ہے کہ اب یہاں نریندر مودی کھڑا ہے، جس کا سر فخر سے بلند ہے۔ میرا دماغ پرسکون ہے لیکن خون میں اب بارود کی گرمی دوڑ رہی ہے۔

“مودی نے مزید دعویٰ کیا کہ “جو لوگ بھارت کے وقار پر حملہ کرنے نکلے تھے، وہ مٹی میں دفن ہو چکے ہیں، اور جنہیں اپنے ہتھیاروں پر گھمنڈ تھا، وہ ملبے کے نیچے دب چکے ہیں۔”انہوں نے پاکستان کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ہر دہشت گرد کارروائی کی بھاری قیمت اسلام آباد کو چکانا پڑے گی، اور اس قیمت کی ادائیگی پاکستانی فوج کرے گی۔مودی نے الزام لگایا کہ رحیم یار خان کا فضائی اڈہ جو سرحد کے قریب واقع ہے، تباہ ہو چکا ہے۔ ان کا دعویٰ تھا کہ بھارتی فوج کی درست حکمت عملی نے اس ایئربیس کو نشانہ بنا کر ناکارہ کر دیا ہے، اور یہ اب “آئی سی یو” میں ہے۔مزید کہا کہ بھارتی حکومت اور مسلح افواج نے ایسا گھیراؤ کیا ہے کہ پاکستان کو پسپائی اختیار کرنا پڑی۔ مودی کے مطابق “ہم نے دہشت گردوں کے ٹھکانے ختم کر دیے ہیں، اور دنیا نے دیکھ لیا کہ جب سندور بارود میں بدلتا ہے، تو اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔

“بھارتی وزیر اعظم نے یاد دہانی کرائی کہ پانچ برس قبل جب بالاکوٹ میں فضائی کارروائی کی گئی تھی، تو اُس وقت بھی اُن کا پہلا جلسہ راجستھان میں ہوا تھا، اور آج “آپریشن سندور” کے بعد بھی اُن کا پہلا خطاب اسی سرحدی علاقے میں ہوا ہے۔مودی نے کہا، “میں نے اسی دھرتی پر قسم کھائی تھی کہ اس ملک کو کبھی جھکنے نہیں دوں گا، اور آج میں اپنے وعدے پر قائم ہوں۔”

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…