پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

معجزہ ہو ہی گیاسائنسدانوں نے کینسرکاعلاج دریافت کرلیا

datetime 17  اکتوبر‬‮  2015 |

کوپن ہی گن (نیوز ڈیسک) ڈنمارک اور کینیڈا کے سائنسدانوں نے مہلک مرض سرطان کا تحقیق کے دوران حادثاتی طورپر علاج دریافت کرلیا۔ڈنمارک کے محققین حاملہ خاتون کو ملیریا سے بچانے کے طریقہ کار پر غور کررہے تھے۔ملیریا میں مبتلا ہونے کے باعث حمل کے تیسرے ماہ ماں کے پیٹ میں بچے اور ماں کے رحم کی اندرونی دیوار کیساتھ ملحق نالی نما ساخت آنول (پلیسنٹا)جس کے ذریعے بچہ خوراک اور آکسیجن حاصل کرتاہے اور اس میں بند رہتاہے،کیلئے بہت بڑے مسائل کا باعث بن سکتی ہے۔اس تحقیق کے دوران سائنسدانوں نے اس بات کا بھی کھوج لگا لیا کہ ملیریا پروٹین ایک ہی وقت میں کینسر پر بھی حملہ آور ہوتی ہے۔ اس پیشرفت نے محققین کیلئے کینسر کے علاج میں مزید آگے بڑھنے کیلئے دروازہ کھول دیا۔یونیورسٹی آف کوپن ہیگن کے محقق علی سالانتی نے سرطان سے متعلق ایک تحقیقی رسالے کینسر سیل کو بتایاکہ سائنسدان کئی عشروں سے اس پلیسنٹا (آنول)اورٹیومر (رسولی)کے درمیان نشوونما کی مماثلت پر تحقیق کررہے ہیں۔اس عمل کا پہلے ہی خلیوں اور کینسر سے متاثرہ چوہوں پر تجربہ کیاگیاہے۔سائنسدانوں نے اس امیدکا اظہار کیا ہے کہ وہ اس دریافت کے اگلے چار سالوں میں انسانوں پر تجربات شروع کریں گے۔اس وقت سوال یہ پیدا ہوتاہے کہ کیا یہ انسانی جسم میں کام کرے گا اور اس خوراک کو انسان پر بغیر کسی مضر اثرات کے یقینی بناناہے۔انہوں نے کہاکہ اس حوالے سے ہم پر امید ہیں کیونکہ یہ پروٹین صرف اپنے آپ کو اس کاربو ہائیڈریٹ سے ہی منسلک کررہی ہے جو انسانوں میں پائی جانے والی رسولی اور پلیسنٹا میں پائی جاتی ہے۔برٹش کولمبیا کے کینیڈا یونیورسٹی میں سرطان کے محقق اور سائنسدان میڈز ڈوگارڈ نے کہاکہ ہم ملیریا پروٹین کو الگ کرنے میں کامیاب ہوگئے ہیں جو اپنے آپ کو صرف کاربوہائیڈریٹ (گلوکوز ، شکر ، نشاستہ اور سلولوز پر مشتمل نشاستہ دارغذا)سے منسلک کرتی ہے اور اس کے بعد نامیاتی زہر کا اضافہ کرتی ہے۔انہوں نے کہاکہ چوہوں پر تجربات کے بعد ہم پروٹین اور کینسر کے خلیوں کو ہلاک کرنے والے نامیاتی زہر کو ملانے کے قابل ہوچکے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…