جمعہ‬‮ ، 02 اکتوبر‬‮ 2026 

اقربا ءپروری،اہم شخصیت کیخلاف ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کانوازشریف کو خط

datetime 16  اکتوبر‬‮  2015 |

کراچی (نیوزڈیسک) ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے معروف صنعتکار ایس ایم منیر کی بطور چیف ایگزیکٹو ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹی ڈیپ) تقرری کو آئین و قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے وزیر اعظم محمد نواز شریف سے قانونی کاروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کے چئیرمین سہیل مظفر نے وزیر اعظم کو لکھے گئے ایک خط میں لکھا ہے کہ ایس ایم منیر کو اقرباءپروری کی بنیاد پر تعینات کیا گیا ہے اور وہ اس عہدے کی مطلوبہ اہلیت پر پورا نہیں اترتے۔ انکی تعلیمی قابلیت، عمر اور کینیڈا کی شہریت ٹی ڈیپ ایکٹ2013 میں چیف ایگزیکٹو کے عہدے کی شرائط کے مطابق نہیں۔انکا بیک وقت بزنس مین، ٹریڈ پالیٹیشن اور ٹی ڈیپ کا چیف ایگزیکٹو ہونا انتہائی غیر قانونی ہے۔ ٹی ڈیپ میں اپنے عہدے کو انھوں نے ملکی برامدات بڑھانے کے بجائے اپنے ذاتی مفادات کیلئے استعمال کرتے ہوئے یونائیٹڈ بزنس گروپ بنایا اور اسکے سرپرست اعلیٰ بن کر ایف پی سی سی آئی کے الیکشن میں حصہ لیتے ہوئے من پسند شخص کواسکا صدر بنوایا،اسکے علاوہ وہ ایم سی بی بینک کے ڈائریکٹر، ایف پی سی سی آئی کے ای سی ممبر، 1996 سے کاٹی کے سرپرست اعلیٰ، 2008 سے پاک انڈیا چیمبر کے صدر، دین ٹیکسٹائل اور دین لیدر کے چئیرمین اور دین گروپ آف انڈسٹریز کے سربراہ ہیں۔وہ ٹی ڈیپ کے علاوہ ایکسپورٹ پراسسنگ زون کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ممبر ہونے کے ناطے دو سرکاری عہدوں پر بیک وقت کام کر رہے ہیں۔ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے مزید کہا کہ ایس ایم منیر اپنے سرکاری عہدوں کو سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کر رہے ہیں جبکہ سرکاری ترغیبات کو اپنے خاندان اور دوستوں کے مفادات کیلئے لٹا رہے ہیں۔انکے صاحبزادے ایس ایم تنویر آپٹما کے سابقہ چیئرمین اور پنجاب انڈسٹریل اسٹیٹس ڈویلپمنٹ اینڈ مینیجمنٹ کمپنی کے چئیرمین ہیں۔ایس ایم منیر اور انکے صاحبزادے حکومتی عہدوں پر براجمان ہونے کے باوجود حکومت کے خلاف مسلسل بیان بازی اور ہڑتالیں کرواکر کے اپوزیشن کا کردار بھی ادا کر رہے ہیں ۔ واضح رہے کہ ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل نے2014 میں بھی انکی تقرری کے خلاف وزارت تجارت کو شکایت کی تھی مگر اعلیٰ حکام نے کاروائی کرنے کے بجائے جھوٹی وضاحت کر کے معاملہ نمٹا دیا۔ اس خط کی نقول سپریم کورٹ،چئیرمین نیب، پرائم منسٹر انسپیکشن کمیشن،سیکرٹری قانون اورسیکرٹری اسٹیبلشمنٹ کو ارسال کر دی گئی ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(ساتواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چھٹا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…