جمعہ‬‮ ، 20 فروری‬‮ 2026 

ملک میں دماغ کھانے والا وائرس کیسے پھیل رہا ہے ؟ بڑا انکشاف

datetime 21  مارچ‬‮  2025 |

کراچی (این این آئی) شہر قائد میں دماغ کو کھانے والا وائرس کے پھیلاؤ کے سبب کے حوالے سے بڑا انکشاف ہوا، جس میں بتایا وائرس کی بڑی وجہ غیر قانونی واٹر ٹینکر کے ذریعے زیر زمین پانی کی سپلائی ہے۔تفصیلات کے مطابق کراچی میں دماغ کو کھانے والا جراثیم نگلیریا ایک بار پھر متحرک ہیں ، ماہرین کا کہنا ہے شہر میں نگلیریا کی سب سے بڑی وجہ غیر قانونی زیرِ زمین پانی کی فروخت ہے ، جو واٹر ٹینکر کے ذریعے حاصل کیا جاتا ہے۔

ماہرین نے بتایا کہ کچھ عرصہ قبل کراچی کی 50 یونین کونسلوں سے پانی کے لیے گئے نمونوں میں سے 95 فیصد میں نیگلیریا مثبت آیا تھا۔شہر کی آدھی سے زیادہ آبادی ٹینکر کا پانی خریدتی ہے، جس میں زیادہ تر پانی نہ صرف غیر قانونی طریقوں سے حاصل کیا جا تاہے بلکہ غیر معیاری اور کلورین کے بغیر ہوتا ہے جو نیگلیریا کا سب سے بڑا سبب ہے۔کراچی میں سرکاری سطح پر صرف چھ ہائیڈرنٹس سے پانی فروخت کیا جاتا ہے، جس میں کلورین کا استعمال کیا جا تا ہے جبکہ کراچی میں یومیہ درجنوں غیر قانونی ہائیڈرنٹس کے ذریعے زیر زمین کئی ملین روپے کا پانی بیچہ جاتا ہے۔

واٹر بورڈ کے پاس رجسٹرڈ ٹینکرز کی تعداد صرف ہے جبکہ شہر میں ہزار سے زائد ٹینکرز یومیہ پانی کی سپلائِی کرتے ہیں، پانی کے منافع بخش کاروبار میں غیر قانونی سرگرمیوں سے انسانی جان اور ماحولیات کے لیے تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



رعونت پر بکھری ہوئی خاک


کراچی میں وسیم انصاری نام کا ایک چھوٹا سا سٹیج…

وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں

1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…