بدھ‬‮ ، 23 ستمبر‬‮ 2026 

کرکٹ کی دنیا کی مہنگی ترین ٹی20 لیگ ‘ سعودی عرب کے خفیہ منصوبے کا انکشاف

datetime 17  مارچ‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)ٹینس کے گرینڈ سلیمز کی طرز پر کرکٹ کی مہنگی ترین لیگ متعارف کرائے جانے کا منصوبہ سامنے آ گیا آئی پی ایل کی بادشاہت خطرے میں پڑ سکتی ہے۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق کرکٹ کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے سعودی عرب اب کرکٹ کے میدان میں بھی قدم رکھ رہا ہے اور عالمی سطح کی ٹی 20 لیگ کے لیے 500 ملین ڈالر تک سرمایہ کاری پر آمادہ ہے۔

اس منصوبے کے پایہ تکمیل تک پہنچے سے آئی پی ایل کی بالادستی چیلنج ہو سکتی ہے۔رپورٹ کے مطابق مجوزہ کرکٹ لیگ میں 8 ٹیمیں ہوں گی اور اس کو ٹینس کے ماڈل اور گرینڈ سلیمز کے طرز پر رکھنے کی تجویزہے اور حصہ لینے والی ٹیمیں سال بھر 4 مختلف مقامات پر میچز کھیلیں گے اور اسی طرح ٹیموں کا بھی انتخاب کیا جائے گا۔یہ منصوبہ آسٹریلیا کے سابق آل راؤنڈر نیل میکسویل کا شاخسانہ ہے، جو آسٹریلیا کے کپتان پیٹ کمنز کے منیجر بھی ہیں اور اس کے علاوہ آسٹریلیا کرکٹرز ایسوسی ایسن اور کرکٹ این ایس ڈبلیو کے سابق بورڈ ممبر بھی ہیں۔اس کے علاوہ اس منصوبے میں سعودی عرب کی ایس آر جے اسپورٹس انویسٹمنٹس بھی شریک ہے، جس کی سربراہی ڈینی ٹاؤن سینڈ کر رہے ہیں، جو کہ آسٹریلیا کے پروفیشنل لیگز کے فٹ بال کے سابق چیف ایگزیکٹو ہیں۔

اس طرح کی لیگ کے پیچھے مقصد ٹیسٹ کرکٹ کو بچانے اور ویسٹ انڈیز جیسے کمزور بورڈز کو سپورٹ کرنے جیسے سنگین مسائل سے نمٹنے کے لیے آمدنی کا ایک نیا سلسلہ پیدا کرنا ہے۔لیگ کے بارے میں کوئی باضابطہ اپ ڈیٹ نہیں ہے لیکن رپورٹس کے مطابق یہ مجوزہ لیگ کسی بڑے T20 ٹورنامنٹ سے نہیں ٹکرائے گی اور اسے الگ ونڈو میں کھیلا جائے گا۔ ٹیمیں نئی فرنچائزز ہوں گی، جن میں آسٹریلیا اور سعودی عرب کی ایک ٹیم شامل ہے۔ لیگ میں مردوں اور خواتین کے مقابلے ہوں گے۔ فائنل سعودی عرب میں ہو سکتا ہے۔تاہم اس لیگ کے منصوبے کو حقیقت کا روپ دینے کے لیے اسے آسٹریلوی کرکٹ بورڈ اور آئی سی سی سے اجازت درکار ہوگی۔ حتمی فیصلہ آئی سی سی کے چیئرمین جے شاہ پر منحصر ہے۔یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ یہ لیگ ہونے کی صوت میں کرکٹ بورڈز، خاص طور پر بی سی سی آئی کو اپنے کھلاڑیوں کو لیگ کھیلنے کے لیے بھیجنے جیسے دیگر چیلنجز بھی ہو سکتے ہیں۔ اس صورت میں جب کہ بھارتی کھلاڑیوں کو آئی پی ایل کی خصوصیت کو برقرار رکھنے کے لیے دیگر T20 لیگ کھیلنے کی اجازت نہیں ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…