پیر‬‮ ، 28 ستمبر‬‮ 2026 

اسمگلنگ سے ہونے والی آمدن حلال کیسے؟ مفتی طارق مسعود نے وضاحت کردی

datetime 17  مارچ‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کے پروگرام آواز میں معروف عالمِ دین مفتی طارق مسعود نے وضاحت کرتے ہوئے کہاہے کہ ایک وائرل ویڈیو میں،میں نے یہ نہیں کہا تھا کہ اسمگلنگ حرام نہیں ہے، بلکہ میں نے یہ کہا تھا کہ اس کی ارننگ(کمائی)حرام نہیں ہے۔ ہر ناجائز کام کی کمائی حرام نہیں ہوتی۔

ریاست نے اگر کسی کام سے روکا ہے تو ہرگز نہ کریں۔انہوں نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ مفتی کا کام یہ ہے کہ جو سوال کیا جائے، اس کا جواب دیا جائے اور جو چیز جتنی ہے، اسے اتنا ہی رکھا جائے۔انہوں نے ایک مثال دیتے ہوئے کہاکہ، اگر میں کسی ملک سے غیر قانونی طریقے سے کوئی چیز اپنے ملک لے کر آتا ہوں تو یہ عمل غلط ہے کیونکہ اسٹیٹ یا ریاست نے اس کی اجازت نہیں دی۔ لیکن دوسری طرف، وہ چیز میری ذاتی ملکیت ہے، جو میں نے اپنے پیسوں سے خریدی ہے۔ اسلام شخصی ملکیت کا قائل ہے۔ اسٹیٹ کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ زبردستی لوگوں کی ذاتی اشیا پر قبضہ کرے، کیونکہ ریاست کا کام عوام کے اموال کی حفاظت کرنا ہے، نہ کہ انہیں غصب کرنا۔

انہوں نے مزید کہا، اگر میں نے کوئی چیز اپنے پیسوں سے خریدی ہے، تو میں اس کا مالک ہوں۔ اگر میں اسے دوسرے ملک سے حکومت کی اجازت کے بغیر لے آیا، تو میں قانون کی خلاف ورزی کا مرتکب ہوں اور مجھے اس کی سزا ملنی چاہیے، لیکن وہ چیز میری ملکیت ہے۔ اگر میں اسے فروخت کروں گا تو اس کا نفع میرے لیے حلال ہوگا۔ ہاں، غلطی یہ ہوگی کہ میں اسے بغیر اجازت کیوں لایا؟ البتہ، نفع اس وقت حرام ہوتا جب میں کسی کی چیز غصب کرکے لاتا، کسی اور کا مال اٹھا کر لے آتا، یا حکومت کی چیزفروخت کرتا۔ اسلام شخصی ملکیت کا قائل ہے اور جو شخص اپنے مال سے کچھ خریدتا ہے، وہی اس کا مالک ہوتا ہے، حکومت اس کی مالک نہیں ہوگی۔مفتی طارق مسعود کے اس موقف سے یہ واضح ہوتا ہے کہ قانون کی پاسداری ہر شہری پر لازم ہے، اور کسی بھی غیر قانونی عمل سے گریز کرنا چاہیے، لیکن اسلام میں شخصی ملکیت کا بھی ایک اصول ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(پانچواں حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(چوتھا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…