پیر‬‮ ، 31 اگست‬‮ 2026 

ادویات فارمیسی کی بجائے پودوں کی نرسری سے ملیں گی

datetime 15  اکتوبر‬‮  2015 |

سڈنی (نیوز ڈیسک) آسٹریلیا کے سائنسدانوں نے جینیٹک انجنئیرنگ کے ذریعے ایسے پودوں کی تیاری شروع کردی ہے جن میں زندگی بچانے والی ادویات کے خواص موجود ہوں گے اور یہ پودے جان لیوا بیماریوں مثلاً کینسر، ذیابیطس، دل کے امراض اور ایچ آئی وی ایڈز وغیرہ کا بھی علاج ثابت ہو سکیں گے۔ کوئنزلینڈ یونیورسٹی کے ڈیوڈ کریک اور لا ٹروب یونیورسٹی کی ماہر میریلین اینڈرسن کے مطابق یہ ’بائیو ڈرگز‘ قیمت میں کم مگر زیادہ موثر ہوں گی۔ اس کے علاوہ ان کے عام فارماسیوٹیکل ادویات کی نسبت سائیڈ ایفکٹس بھی کم ہوں گے۔ کریک کا اے بی سی ریڈیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ”ہمارا کام پیپٹائڈز کا پتہ لگانا ہے جو پودوں میں منی پروٹینز ہوتے ہیں۔ اور پھر ان کو اس طرح سے دوبارہ ڈیزائن کرنا کہ یہ نیکسٹ جنریشن ڈرگز کا کام کر سکیں۔“ کریک کا مزید کہنا تھا، ”مثال کے طور پر ہمارے پاس پراسٹیٹ کینسر کی دوا ہے جو ہم سورج مکھی کے بیجوں میں شامل کر سکتے ہیں۔ اس طرح لوگوں کو لازمی طور پر گولیاں اور کیپسول نہیں پھانکنا پڑیں گے بلکہ پروسٹیٹ کینسر کا علاج ان کی روزانہ خوراک کے ذریعے ممکن ہو سکے گا۔ اس طرح ادویات مریض کے جسم تک پہچانے کے لیے ممکنات کی ایک نئی دنیا کھ ل جائے گی۔“ ڈیوڈ کریک کے مطابق پودوں کے ذریعے ادویات کا بہت زیادہ فائدہ ترقی پذیر دنیا کو پہنچے گا۔ وہ کہتے ہیں کہ تنزانیہ میں اس وقت اوسط عمر 40 برس ہے جس کی وجہ ایچ آئی وی اور ایڈز ہے، ”اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ ہمارے پاس اچھی ادویات نہیں ہیں بلکہ اس کی وجہ محض یہ ہے کہ لوگ انہیں خرید نہیں سکتے۔“ خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق سائنسدانوں کو امید ہے کہ وہ ایک ایسا پودا تیار کر سکیں گے جس میں ایچ آئی وی کی روک تھام کی بائیو ڈرگ موجود ہو گی۔ لوگ اس پودے کو اپنے باغات میں اگا سکیں گے اور اس سے چائے بنا کر پی سکیں گے۔ کریک کے مطابق یہ ایک ایسی چیز ہو گی جو افریقہ میں ایچ آئی وی کے علاج میں انقلاب برپا کر دے گی۔ میریلین اینڈرسن کا کہنا ہے، ”اگر یہ تھیوری حقیقت بن جاتی ہے تو لوگ اپنی ادویات خود اگا سکیں گے۔ اور اس کا ایک فائدہ یہ ہے کہ آپ کو انہیں ریفریجریٹر میں محفوظ کر کے نہیں رکھنا پڑے گا اور نہ آپ کو انجکشن کے ذریعے انہیں جسم میں منتقل کرنا پڑے گا اور انہیں آسانی سے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی کیا جا سکے گا۔“ اس طرح ادویات فارمیسی کی بجائے نرسری سے ملیں گی۔ ڈی پی اے کے مطابق ان بائیو ڈرگز کی انسانوں پر آزمائش کا عمل آئندہ 10 برسوں کے اندر اندر شروع ہونے کا امکان ہے۔ ماہرین کے مطابق پہلے مرحلے میں کینسر اور تکلیف سے نجات دلانے والی ادویات کی آزمائشیں کی جائیں گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)


ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)

ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…