ہفتہ‬‮ ، 19 ستمبر‬‮ 2026 

محبت کی خاطر کراچی آنے والی امریکی خاتون نفسیاتی قرار

datetime 30  جنوری‬‮  2025 |

کراچی(این این آئی)کراچی کے لڑکے کی محبت میں گرفتار ہوکر شادی کرنے کیلیے پاکستان آنے والی امریکی خاتون کو پولیس نے نفسیاتی قرار دیتے ہوئے حفاظتی تحویل میں لے لیا تاہم فلاحی اداروں کے انکار پر خاتون کو دوبارہ گارڈن میں قائم اپارٹمنٹ لے آئی۔امریکا سے آئی خاتون اپنی محبت کی تلاش کیلیے گارڈن میں قائم لڑکے کے اپارٹمنٹ پہنچیں اور انہوں نے وہاں پر دھرنا دیا۔ خاتون نے کہا کہ وہ اپنی منزل کے قریب ہیں اور اب شادی کے بغیر واپسی نہیں جائیں گی۔کچھ دیر بعد پولیس کے اعلی افسران اپارٹمنٹ پہنچے جس میں ایس سی ڈی پی او ڈیفنس فائزہ بھی شامل تھیں۔

انہوں نے خاتون سے بات چیت کے بعد کہا کہ مجھے غیر ملکی خاتون کی موجودگی کے حوالے سے ایس پی سٹی کی جانب سے احکامات موصول ہوئے تھے، امریکی خاتون کے لیے سیکیورٹی کا معاملہ ہے۔انہوں نے کہا کہ خاتون ذہنی طور پر ٹھیک نہیں، وہ تنہا ہے اور ہم اسے سیکیورٹی فراہم کر رہے ہیں، ہم اسے تحفظ فراہم کرنے آئے ہیں، وہ ہماری مہمان ہیں اسکا تحفظ کر رہے ہیں۔پولیس نے خاتون کو حفاظتی تحویل میں لے کر محفوظ مقام پر منتقل کیا اور خاتون افسر نے کہا کہ محفوظ مقام پر پہنچ جائے گی تو ہم اس سے کچھ بات کر سکیں گے۔ایس پی سٹی عارف عزیز نے بتایا کہ امریکن خاتون کو کوئی فلاحی ادارہ رکھنے کے لیے تیار نہیں، امریکن خاتون کو واپس گارڈن کی بلڈنگ میں پہنچادیا گیا ہے۔قبل ازیں امریکی خاتون ائیر پورٹ سے گارڈن میں قائم علی اپارٹمنٹ پہنچیں اور کہا کہ ان کا شوہر ندال احمد اسی اپارٹمنٹ کا رہائشی ہے۔

یونین کے سمجھانے پر خاتون نے کہا کہ میں یہاں سے کسی صورت نہیں جائوں گی، مجھے حکومت پاکستان شہریت اور پانچ ہزار ڈالر دے۔دوسری جانب یونین نے کہا کہ ندال احمد نام کا کوئی فرد اس اپارٹمنٹ میں نہیں رہتا، جو پتہ خاتون بتا رہی ہیں اس فلیٹ پر تالا ہے جبکہ امریکی خاتون کے بیان میں تضاد ہے۔علاقہ مکینوں نے بتایا کہ انہیں اب پتہ چلا کہ امریکی خاتون ندال کے گھر میں رہائش پزیر تھی اور یہ بات چھپائی گئی تھی، علاقہ مکینوں نے بتایا کہ ندال میمن آج دن میں اپنی موٹرسائیکل پر فلیٹ سے بڑی تیزی سے نکل کر بھاگا تھا جاتے ہوئے اس نے ایک دوسری موٹرسائیکل کو ٹکر بھی ماری تھی تاہم وہ رکا نہیں اور چلا گیا ، جبکہ ندال کے جانے کے کچھ دیر بعد اس کے گھر والے بھی فلیٹ کو تالا لگا کر چلے گئے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(گیارہواں حصہ)

ہم ڈاک خانے والی گلی میں رہتے تھے‘ گلی کے شروع…