بدھ‬‮ ، 19 اگست‬‮ 2026 

توہین رسالت ؐکے چار مجرموں کو پھانسی دینے کا حکم

datetime 24  جنوری‬‮  2025 |

راولپنڈی(این این آئی)سیشن کورٹ پنڈی نے توہین رسالت ۖکے ایک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے چار مجرمان کو سزائے موت،عمر قید اور 80 سال قید کی سزا سنادی۔میڈیارپورٹ کے مطابق توہین مذہب کے کیس کا فیصلہ پنڈی کی سیشن عدالت کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج محمد طارق ایوب نے سنایا۔

عدالت نے مجرموں پر مجموعی طور پر 46 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا جب کہ عدم ادائیگی جرمانہ پر قید سخت بھگتنا ہوگی، مجرمان میں رانا عثمان، اشفاق علی، سلمان سجاد، واجد علی شامل ہیں۔ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ نے 22 اکتوبر 2022ء کو مقدمہ درج کیا تھا، مجرمان پر فیس بک، سوشل میڈیا پر توہین رسالتۖ، مقدس ہستیوں، قرآن پاک کی بے حرمتی ثابت ہوئی۔

عدالت نے 295 سی کے تحت چاروں مجرموں کو سزائے موت سنائی، 295 بی پر عمرقید سنائی، مجرمان کو 295 اے پر دس دس سال قید سنائی اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا، مجرمان کو 298 اے جرم میں تین تین سال قید سنائی اور ایک ایک لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔مجرموں کو پیکا ایکٹ 2016ء کے تحت سات سات سال قید ایک ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا دی گئی۔عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ مجرموں کو اس وقت تک پھانسی کے پھندے پر لٹکائے رکھا جائے جب تک ان کی موت واقع نہ ہوجائے، توہین رسالتۖ، مقدس ہستیوں اور قرآن پاک کی بے حرمتی ناقابل معافی اور ناقابل رعایت جرم ہے۔فیصلے کے بعد مجرموں کو اڈیالہ جیل منتقل کردیا گیا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)


ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…