لندن/کابل(نیوزڈیسک)فغانستان کے دارالحکومت میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والے پانچ نیٹو فوجیوں میں دو برطانوی بھی شامل ہیں جس کے بعد افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد چار سو چھپن ہو گئی ہے،دریں اثناءپیرکو افغانستان میں اقوام متحدہ سے منسلک ایک خاتون ’توپکئی الفت‘ کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا،ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق لندن میں برطانوی وزارت دفاع نے تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ اس حادثے میں رائل ایئر فورس کے دو اہلکار مارے گئے ہیں جبکہ اس واقعے کی تحقیقات کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اس کے ساتھ ہی افغانستان میں ہلاک ہونے والے برطانوی فوجیوں کی تعداد چار سو چھپن ہو گئی ہے۔ برطانوی افواج 2001 کے بعد سے امریکی قیادت میں طالبان کے خلاف لڑ رہی ہیں،دریں اثناءپیرکو افغانستان میں اقوام متحدہ سے منسلک ایک خاتون ’توپکئی الفت‘ کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کرکے ہلاک کر دیا۔ حکام کے مطابق توپکئی الفت کو قندھار میں اس وقت نشانہ بنایا گیا، جب وہ اپنے آفس سے گھر جا رہی تھی۔ نامعلوم مسلح افراد موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔ ابھی تک کسی بھی گروپ نے اس حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے۔
افغانستان میں برطانیہ کو ایک ہی دن میں بڑا جھٹکا
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
-
کورونا بوسٹر ویکسین لگوانے والوں کیلئے اہم خبر ، سائنسدانوں کا بڑا انکشاف
-
پتھر کے زمانے سے اے آئی تک
-
بجلی کے یونٹ پر سیلز ٹیکس کا نیا طریقہ کار نافذ
-
پاکستان میں سونے کی فی تولہ قیمت میں حیران کن کمی
-
4 اگست کو سرکاری و نجی تعلیمی ادارے بند رکھنے کا اعلان
-
دانتوں کے کیڑے سے بچاؤ کا مؤثر اور آسان طریقہ سامنے آگیا
-
متحدہ عرب امارات نے محدود مدت کیلئے بڑی سہولت دے دی
-
55 سالہ شخص کی 2 کم عمر لڑکیوں سے جنسی زیادتی
-
ہاتھ ملانے پر پابندی، بھارتی ویمن کھلاڑی فاطمہ ثناء کے گلے لگ گئیں، ویڈیو وائرل
-
جامعات اور کالجز میں دو روزہ تعطیل کا فیصلہ
-
اگست سے اکتوبر تک ملک میں معمول سے کم بارشوں اور زیادہ گرمی کی پیشگوئی
-
رشتے کے تنازع پر مخالفین کی گھر میں فائرنگ، 3 بھائی جاں بحق, بچہ زخمی
-
گرج چمک کیساتھ بارش کا امکان
-
’دشمن بھی خاندانی ہونا چاہیے‘، ثاقب چدھڑ کا عروبہ مرزا کو کرارا جواب



















































