پیر‬‮ ، 03 اگست‬‮ 2026 

جاسوسی کا الزام، ایران نے امریکی صحافی کو سزا سنادی

datetime 12  اکتوبر‬‮  2015 |

تہران(نیوزڈیسک) ایران نے جاسوسی کے الزام میں گرفتار امریکی صحافی کی سزا کا اعلان کردیا۔ ایرانی عدلیہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ واشنگٹن پوسٹ کے صحافی جیسن رضائیاں کو سزا سنادی گئی ہے تاہم اس کی مزید تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔ ایرانی عدلیہ کی ویب سائٹ پر ترجمان اور نائب سربراہ غلام حسین محسینی نے بتایا کہ جاسوسی کے مقدمے میں فیصلہ جاری کردیا گیا ہے اور اس فیصلے کیخلاف اپیل کی جاسکتی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اپیل کا وقت ابھی باقی ہے اور ہم انتظار کررہے ہیں کہ فیصلے کے خلاف اپیل کی جاتی ہے یا نہیں، اگر ایسا نہیں ہوا تو فیصلہ حتمی تصور کیا جائے گا۔اس سلسلے میں رضائیاں کے رپورٹر سے بھی کوئی رابطہ نہیں ہوسکا اور کسی اور ذرائع سے بھی تصدیق نہیں کی جاسکی ہے۔ دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ کا کہنا ہے کہ وہ اس معاملے پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور ایران سے ایک بار پھر مطالبہ کرتا ہے کہ وہ رضائیاں کو رہا کرے۔محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا کہ ہم نے جیسن رضائیاں کو سزا سنائے جانے کے حوالے سے میڈیا رپوٹس کا جائزہ لیا ہے تاہم اس سلسلے میں ایرانی حکام کی جانب سے کوئی تصدیق نہیں ہوسکی ہے۔علاوہ ازیں واشنگٹن پوسٹ کے ایگزیکٹو ایڈیٹر مارٹن بیرن کا کہنا ہے کہ جیسن رضائیاں کے حوالے سے ایرانی عدلیہ کا مبہم بیان رضائیاں کے مقدمے میں ہونے والی ناانصافی کو مزید بڑھاوا دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی عدلیہ کے بیان میں یہ بات واضح نہیں کہ رضائیاں کو کیا سزا سنائی گئی ہے اور اس سے متعلق رضائیاں اور ان کے وکیل کو آگاہ کیا گیا ہے یا نہیں۔ واضح رہے کہ ایرانی نژاد امریکی شہری جیسن رضائیاں کو 15 ماہ قبل ایران میں واشنگٹن پوسٹ کے نامہ نگار کے طور پر کام کے دوران جاسوسی اور دیگر الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا تھا۔گزشتہ ماہ ایران کے صدر حسن روحانی نے کہا تھا کہ اگر امریکا اپنے ہاں قید ایرانیوں کو رہا کر دے تو ان کی حکومت رضائیاں اور ایران میں قید دو اور امریکیوں کی رہائی کے لیے کام کرے گا۔دوسرے دو امریکی شہریوں میں ایک امیر حکمتی ہیں جو سابق امریکی میرین ہیں جن پر جاسوسی کا الزام عائد کیا گیا تھا جبکہ دوسرے سعید عابدین ہیں جنہوں نے عیسائیت قبول کرنے کے بعد ایک بائیبل اسٹڈی گروپ قائم کیا تھا۔



کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک


میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…

ہمارا امیرالعظیم

امیرالعظیم صاحب سے میری پہلی ملاقات 1997ء میں کراچی…

2076ء

آئزل میری پوتی ہے‘ یہ تین برس کی ہے اور یہ سارا…

Cognitive Manipulation

کسی پہاڑی پر جنگلی مرغیاں رہتی تھیں‘ وہ تعداد…

بلوچستان کا حل

آج سے 15 سال قبل میرے پاس ایک نوجوان آیا‘ وہ خیبرپختونخواہ…

پاکستان کا المیہ (آخری حصہ)

یہ حقیقت تلخ ہے لیکن ہمیں بہرحال اسے ماننا پڑے…

پاکستان کا المیہ (دوسرا حصہ)

سکندراعظم پہلا حکمران تھا جس نے اپنے دور کی زیادہ…

پاکستان کا المیہ

شاہ جہاں 1626ء میں اپنے والد جہانگیر کے خلاف آخری…

سیٹی سے رزق کمانے والا انسان

بھارت میں 1975ء میں جولی کے نام سے فلم بنی ‘ اس…

وراثت

بنوں میں دو بھائی رہتے تھے‘ والد زمین دار اور…