منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

اقتصادی راہداری منصو بہ : ایف بی آر نے2اعلیٰ افسرفوکل پرسن مقررکردیے

datetime 11  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک)فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے وزارت پانی و بجلی کی درخواست پر چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پی ای سی) کے منصوبوں کے لیے سیکریٹریز سطح کے 2 افسران کو خصوصی فوکل پرسن مقرر کر دیا ہے جبکہ پورٹ قاسم سے سی پی ای سی منصوبوں کے لیے ہونے والی درآمدات کو ودہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ پر عملدرآمد شروع کردیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق چین پاکستان اقتصادی راہداری منصوبے کے تحت ترقیاتی منصوبوں سے متعلق درپیش مسائل اور ان کے حل کے لیے اقدامات سے متعلق منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس میں بتایا گیا کہ وزارت پانی و بجلی کی جانب سے چین پاکستان اقتصادی راہداری کے منصوبوں کے لیے ایف بی آر میں خصوصی سہولتی ڈیسک قائم کرنے کی درخواست کی گئی ہے تاکہ سی پی ای سی منصوبوں کے لیے ٹیکسوں سے متعلق کسی بھی قسم کی مشکلات کو دور کیا جا سکے۔دستاویز میں فیڈرل ایف بی آر کی جانب سے بتایا گیاکہ وزارت پانی و بجلی کی درخواست پر ایف بی آر میں ان لینڈ ریونیو اور کسٹمز ڈپارٹمنٹ میں ایک ایک فوکل پرسن مقرر کر دیا گیا ہے اور دونوں ڈپارٹمنٹس میں مقرر کیے جانے والے یہ فوکل پرسن سی پی ای سی منصوبوں کے لیے کسی بھی قسم کے مسائل کے حل کے لیے ایف بی آر کے تمام ذیلی ڈپارٹمنٹس کے ساتھ کوآرڈی نیشن کریں گے اور سی پی ای سی منصوبوں کے لیے معاملات کو فوری طور پر حل کیا جائے گا۔ایف بی آر حکام کی جانب سے یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ ان لینڈریونیو اور کسٹمز میں مقرر کیے جانے والے فوکل پرسن ایف بی آر کے سیکریٹری سطح کے افسران ہیں، یہ افسران سی پی ای سی منصوبوں کے معاملات کے لیے اگر ملک بھر سے فیلڈ فارمشنز سے متعلق بھی کسی قسم کے مسائل ہونگے تو انہیں بھی حل کرانے میں کردار ادا کریں گے۔دستاویز کے مطابق حدود کا تعین نہ ہونے کی وجہ سے پورٹ قاسم سے سی پی ای سی منصوبوں کے لیے کی جانے والے درآمدات کو ود ہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ میں تاخیر ہورہی تھی مگر اب جوریزڈکشن (حدود) کا تعین کردیا گیا ہے لہٰذا اب پورٹ قاسم سے سی پی ای سی منصوبوں کے لیے کی جانے والی درآمدات کو تمام مطلوبہ دستاویز کی فراہمی اور قانونی تقاضے پورے کرنے پر ودہولڈنگ ٹیکس سے چھوٹ دے دی جائے گی۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…