منگل‬‮ ، 25 اگست‬‮ 2026 

ود ہولڈنگ ٹیکس کسی بھی صورت واپس نہیں لیا جا ئے گا ، وزیر خزانہ

datetime 10  اکتوبر‬‮  2015 |

فیصل آباد(آن لائن)وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی طرف سے جو ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے اسے کسی بھی صورت واپس نہیں لیا جاسکتا اگر ایسا کیا گیا تو بین الاقوامی ادارے سے لئے گئے قرضہ جات کی واپسی میںنہ صرف مشکلات حائل ہونگی بلکہ قرضوں کے حصول کیلئے بھی مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا ۔وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے یہ بات وزیراعظم پاکستان اور وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف کو اس بریفنگ میں بتائی جس میں ملک بھر کے تاجر تنظیموں اور خاص کر لاہور کی تنظیموں کی طرف سے بینکوں کے لین دین پر لگائی جانے والی 0.6فیصد کو واپس لینے کا مطالبہ کیا تھا۔ آن لائن کے مطابق وزیر خزانہ اسحاق ڈار کا کہنا تھا کہ اس وقت ملک بھر میں ایک کروڑ پچیس لاکھ تاجر کام کررہے ہیں اور صرف نو لاکھ کے لگ بھگ تاجروں نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کیا ہوا ہے جن کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں ہے اگر تاجر حضرات پچاس لاکھ روپے تک اپنا نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کرلیں تو ملک کو قرض لینے کی ضرورت نہیں ہوگی اور اس طرح بجٹ کا خسارہ بھی ختم ہوجائے گا وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ دنیا بھر کے ممالک اور آئی ایم ایف ورلڈ بینک ہر ملک کی آبادی یہاں پر کاروبار کرنے والے تاجروں کے بارے میں بینکوں کے اکاﺅنٹس کے حساب سے اندازہ لگاتا ہے اور جن تاجروں اور کاروبار کرنے والے حضرات نے نیشنل ٹیکس نمبر حاصل کرکے اپنے اندراج کرایا ہوگا ان کو ترجیح دے کر اس ملک کی آمدنی اور خسارے کا بخوبی وہ اندازہ لگاتے ہیں اگر ٹیکس دینے والے کی تعداد ملکی آبادی کے مطابق صحیح ہو تو دنیا بھر کے تمام ممالک اس ملک کو نہ صرف اہم مقام دیتے ہیں بلکہ اس ملک میں بزنس اور اپنے کاروبار کو وسعت دینے کیلئے بھی وہ ترجیح دیتے ہیں بلکہ بعض ایسے ممالک بھی ہیں جہاں ٹیکس ہولڈر زیادہ ہوتے ہیں وہاں ممالک کو بلاسود قرضہ جات دینے میں بھی اپنے سرمائے یا دولت کو محفوظ رکھتے ہیں اس لئے حکومت پاکستان یا وزارت خزانہ کسی بھی صورت میں ود ہولڈنگ ٹیکس عائد کیا گیا ہے اسے واپس نہیں لے گی اگر حکومت نے ٹیکس لینے کیلئے ایسا کیا تو ملک مزید مسائل سے دو چار ہوگا جس کا وہ متحمل نہیں ہوسکتا ۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دسواں حصہ)


ہمارے بچپن میں واش رومز یا ٹوائلٹس چھتوں پر ہوتے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(نواں حصہ)

مجھے مدت بعد پتا چلا میری عمر کے لوگوں کی کام…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آٹھواں حصہ)

ہم کھاریاں سے لالہ موسیٰ شفٹ ہو گئے‘ ہماری گلی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(ساتواں حصہ)

جنگ کے زمانے میں رات کے وقت بلیک آئوٹ ہو جاتا…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چھٹا حصہ)

1971ء کے آخر میں پاکستان اور بھارت کی جنگ شروع ہو…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پانچواں حصہ)

ہمارے زمانے میں بچوں کے لیے چار تحفے ہوتے تھے‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چوتھا حصہ)

میری عمر اس وقت تین سال تھی جب میرے والدین گائوں…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیسرا حصہ)

میں نے گائوں میں صرف تین سال گزارے لیکن اس کی…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(دوسرا حصہ)

گائوں کے نوے فیصد مکان کچے تھے‘ دیواریں گارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک

میں خوش قسمتی یا بدقسمتی سے اس نسل سے تعلق رکھتا…

Foot In The Door

خرگوش آزاد اور مست زندگی گزار رہا تھا‘ اس کے…