ہفتہ‬‮ ، 07 فروری‬‮ 2026 

کیا ہوگیا اس ملک کو،ڈاکٹرذاکر نائیک کا اسٹیج چھوڑنے پر تنقید پر ردعمل

datetime 8  اکتوبر‬‮  2024 |

کراچی(این این آئی) معروف عالم دین ڈاکٹر ذاکر نائیک نے ایک تقریب کے دوران اسٹیج چھوڑ کر اترنے کی وجہ بتادی۔ڈاکٹر ذاکر نائیک ان دنوں پاکستان کے دورے پر ہیں۔ چند روز قبل وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ہونے والی ایک تقریب میں وہ اسٹیج چھوڑ کر چلے گئے۔یتیم بچوں کے ادارے پاکستان سویٹ ہوم میں ڈاکٹر ذاکر نائیک کو بطور مہمان خصوصی مدعو کیا جہاں انہوں نے گفتگو کی اور سوالات کے جواب دیے۔

پروگرام کے اختتام پر سویٹ ہوم کے چیئرمین زمرد خان نے ڈاکٹر ذاکر نائیک کے ہاتھوں شیلڈ دلوانے کیلیے لڑکیوں کو اسٹیج پر بلایا تو ڈاکٹر ذاکر نائیک اسٹیج سے اتر گئے۔انہوں نے کہا کہ یہ لڑکیاں میرے لیے نامحرم ہیں جنہیں میں شیلڈ نہیں دے سکتا۔ اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی۔ ڈاکٹر ذاکر نائیک نے اسٹیج سے نیچے اتر کر لڑکوں کو شیلڈ دی۔ سوشل میڈیا پر جہاں بیشتر لوگوں نے ڈاکٹر زاکر نائیک کے اس عمل کو سراہا وہیں کچھ ناقدین نے انہیں نکتہ چینی کا نشانہ بھی بنایا۔اتوار کی شب ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کراچی میں گورنر ہائوس سندھ میں عوامی نشست سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مجھے یتیم بچوں سے ملاقات کے لیے بلایا گیا تھا جس پر میں نے انتہائی مصروفیت کے باوجود صرف 10 منٹ کیلیے شرکت کی حامی بھرلی، لیکن تقریب میں یتیم بچے تو پیچھے رہ گئے آگے صرف فوٹو سیشن ہوتا رہا۔

انہوں نے کہا کہ پھر مجھ سے تقریر کرنے کا کہا گیا تو میں نے بچوں کی خاطر کچھ دیر گفتگو کی، تقریر کے اختتام پر خواتین کو اسٹیج پر بلالیا گیا، وہ سب بالغ تھیں اس لیے میں انہیں خواتین ہی کہوں گا، جس پر میں نے اعتراض کیا تو منتظم نے کہا کہ سب بچیاں ہیں، میں نے کہا کہ یہ کہاں کا تصور ہے۔ڈاکٹر ذاکر نائیک نے کہا کہ بالغ ہونے پر کسی لڑکی کو چھو بھی نہیں سکتے، میری اسلام کی تقریر کے دوران لڑکیوں کی پوری فوج اسٹیج پر آگئی، سب 15، 16 کی بالغ لڑکیاں تھیں۔انہوں نے کہا کہ میرے اسٹیج سے اترنے پر سوشل میڈیا میں مجھ پر تنقید ہوئی، جس پر مجھے شدید تعجب ہوا کہ پاکستان میں یہ ہورہا ہے، کیا ہوگیا ہے اس ملک کو!، آپ کو تو بولنا چاہیے تھا ماشااللہ کیا داعی ہے اسٹیج سے اتر گیا، الٹا لوگ مجھے کہہ رہے ہیں کہ لڑکیوں سے نہیں ملا۔ یتیم خانے کے مالک نے کہا کہ یہ میری بیٹیاں ہیں، میں نے کہا کہ تمہیں بھی ان بچیوں کو چھونا حرام ہے، یہ کہاں کا معاشرہ ہے، بیٹی بولنے میں کوئی مضائقہ نہیں لیکن نابالغ نامحرم کو چھو بھی نہیں سکتے۔انہوں نے انتہائی حیرانی کا اظہار کیا یہ سب پاکستان میں ہورہا ہے، بھارت میں ہندو مجھے بلاتے ہیں تو میرا احترام کرتے ہیں کہ ذاکر بھائی سے لڑکیوں کو دور رکھیں، اسلام آباد میں ٹی وی میزبان سوال پوچھنے میرے نزدیک آتی رہی، میں پیچھے ہٹ رہا ہوں اور وہ اوپر آتی جارہی ہے، آپ مسلمان ہیں یہ کیا ہورہا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ بیٹی بولنے میں کوئی حرج نہیں، اس کی پرورش کریں لیکن چھونے کا حق نہیں، بیٹی بولنے سے بن نہیں جاتی وہ حرام ہے، آپ اسے چھو نہیں سکتے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں
آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آئل اینڈ سپیس وار


مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…

تہران میں کیا دیکھا(دوم)

مجھے2024ء میں تہران میں امام خمینی کا گھر اور ایران…

تہران میں کیا دیکھا

ہمارا گروپ 25 دسمبر 2025ء کو تہران پہنچا‘ اسلام…

چھوٹی چھوٹی نیکیاں اور بڑے معجزے

اسلام آباد کا بائیس سالہ طالب علم طلحہ ظہور…

ونڈر بوائے

یہ بنیادی طور پر تین پاشائوں کی کہانی ہے‘ طلعت…

سہیل آفریدی کا آخری جلسہ

وہ جنرل کے سامنے بیٹھا‘ تھوڑی دیر دائیں بائیں…