جمعہ‬‮ ، 17 اپریل‬‮ 2026 

علم طب کا کارنامہ، 7 سالہ بچی کو نئی کھوپڑی لگا دی

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )تین سال قبل اس سات سالہ بچی گریس کابیلنگا کو بہت بری طرح انفیکشن ہو گیا تھا جس کے باعث ڈاکٹروں نے اس کے دماغ کی کھوپڑی کا بہت سا حصہ الگ کر دیا تھا۔ لیکن اب ڈاکٹروں نے تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے اس کی کھوپڑی کا کامیاب آپریشن اسے دوبارہ ٹھیک کر دیا ہے جس سے گمان ہی نہیں ہوتا۔ گریس کے والدین کا کہنا ہے کہ ہم اپنی بیٹی کے کامیاب آپریشن اور حصت یابی پر بہت خوش ہیں۔ ہمیں یقین ہی نہیں ہو رہا کہ ہماری بیٹی مکمل ٹھیک ہو گئی ہے۔اس بچی کا آپریشن جنوبی افریقا کے دارالحکومت کیپ ٹاو¿ن میں ہوا تھا۔ ڈاکٹروں نے سی ٹی سکین کے بعد تھری ڈی پرنٹرز کی مدد سے گریس کے سائز کی مصنوعی کھوپڑی بنائی تھی۔

*** EXCLUSIVE - VIDEO AVAILABLE *** UNKNOWN - UNDATED: Grace Kabelenga after her first surgery to reconstruct her face. She was left without a large section of her skull to prevent infection. A seven-year-old girl born with a cranio-facial abnormality has undergone pioneering surgery to fill a huge hole in her forehead using 3D printed technology. Grace Kabelenga had surgery at four years old to correct her facial deformity - but a large section of her skull was removed to prevent infection. As a result Grace from Ndola, Zambia, has never been to school and is not allowed to play with other children as she is desperately prone to infections. Just falling over or being touched in the wrong place could have killed her, as the entire front section of her skull was missing and her brain was completely unprotected under the skin of her forehead. Now Grace has undergone state of the art surgery in South Africa to have a specially constructed forehead implanted into her skull to encourage the bone to grow. Graceís unique facial condition developed in the womb and her parents Ngula and Elijah desperately sought medical attention upon her birth. PHOTOGRAPH BY TLC / Barcroft Productions UK Office, London. T +44 845 370 2233 W www.barcroftmedia.com USA Office, New York City. T +1 212 796 2458 W www.barcroftusa.com Indian Office, Delhi. T +91 11 4053 2429 W www.barcroftindia.com
گریس کا علاج کرنے والے ڈاکٹر کینیتھ سیلیر کا کہنا ہے کہ اس بچی کی جان بچانے کیلئے یہ آپریشن کرنا انتہائی ضروری تھا کیونکہ اگر ایسا نہ کیا جاتا تو اس کا بچنا مشکل تھا۔ واضع رہے کہ گریس جب پیدا ہوئی تو قردتی طور پر اس کے ہونٹ اور ناک کٹے ہوئے تھے۔ طبی ماہرین اس آپریشن کو طب کی دنیا کا کارنامہ قرار دے رہے ہیں۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



گریٹ گیم


یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…

لفظ اضافی ہوتے ہیں

نیویارک کے اطالوی ریستوران میں نوجوان لڑکی نے…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(آخری حصہ)

ایران کا دوسرا کمال سیاحت ہے‘ میں 120 ملک گھوم…

ایرانی لوگ کیسے ہیں(پہلا حصہ)

جون 2025ء تک ایران میں پاکستان کا تاثر اچھا نہیں…

مشہد میں دو دن (آخری حصہ)

ہم اس کے بعد حرم امام رضاؒ کی طرف نکل گئے‘ حضرت…

مشہد میں دو دن

ایران کے سفر کی پہلی تحریک حسین باقری تھے‘ یہ…

ایران کیا تھا اور کیا ہو گیا

پیارے قارئین: ایران محض ایک ملک نہیں ہے یہ پہلی…

ایران کے لیے واحد آپشن

بوروڈینو (Borodino) ماسکو سے ایک سو تیس کلو میٹر دور…

ہیکل سلیمانی

اللہ تعالیٰ کا حضرت دائود ؑ پر خصوصی کرم تھا‘…

مذہب کی جنگ(آخری حصہ)

اسرائیل میں میرا ایک دوست رہتا ہے‘ عمویل مطات‘…