منگل‬‮ ، 17 فروری‬‮ 2026 

جاپان, جوہری پاور پلانٹ کے حادثے کے بعد کینسر کی وباءپھوٹ پڑی

datetime 9  اکتوبر‬‮  2015 |

اسلام آباد (نیوز ڈیسک )جاپان میں چار سال قبل پیش آنے والے فوکو شیما جوہری پاور پلانٹ کے حادثے کے بعد سے اس مقام کے نواحی علاقوں کے رہنے والے بچوں میں تھائی رائیڈ کینسر میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ نیوز ایجنسی اے پی کی رپورٹ کے مطابق ایک نئی تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ حادثے کا شکار ہونے والے فوکو شیما پاور پلانٹ کے قریبی علاقوں میں رہنے والے بچوں میں تھائی رائیڈ کینسر کی شرح دیگر علاقوں کی نسبت بیس سے پچاس فیصد زیادہ ہے۔ دوسری جانب حکومت کا موقف ہے کہ یہ تعداد اس وجہ سے زیادہ ہے کہ اس علاقے میں سخت نگرانی کرتے ہوئے تقریباً ہر بچے کا چیک اپ کیا جا رہا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ فوکوشیما صوبے میں 2011ءمیں اس حادثے کے بعد سے اب تک مجموعی طور پر تین لاکھ ستر ہزار بچوں کا الٹراساونڈ چیک اپ کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں تازہ ترین اعداد و شمار رواں برس اگست میں جاری کیے گئے، جن کے مطابق تھائی رائیڈ کینسر کے 137 مشتبہ اور تصدیق شدہ نئے کیسز سامنے آئے ہیں، جو کہ ماضی کی نسبت پچیس فیصد زائد ہیں۔ یہ نئی تحقیق کرنے والی ٹیم کے سربراہ اور اوکیاما یونیورسٹی کے پروفیسر توشیدے سوڈا کا کہنا ہے، ”ایسے کیسز توقع سے زیادہ ہیں اور تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ یہ عام توقعات سے بیس سے پچاس فیصد زائد ہیں۔“ یہ تازہ تحقیق رواں ہفتے آن لائن جاری کی گئی ہے جبکہ نومبر میں یہ ورجینیا کے بین الاقوامی ماحولیاتی جریدے میں بھی شائع کی جائے گی۔ اس تحقیق میں ان اعداد و شمار کو جمع کیا گیا ہے، جو فوکوشیما میڈیکل یونیورسٹی نے جمع کیے تھے۔ اس حادثے کے بعد جاپانی حکومت سرکاری اور سرکردہ ڈاکٹروں کو فوکوشیما کے علاقے میں لائی تھی، جن کا کہنا تھا کہ موجودہ تابکاری کے نتیجے میں کسی بھی بیماری کا خطرہ نہیں ہے۔ حکومت کے مطابق تھائی رائیڈ چیک صرف اور صرف احتیاط کے طور پر کیے جا رہے ہیں۔ اس موقف کے برعکس اوکیاما یونیورسٹی کے پروفیسر توشیدے سوڈا کا کہنا ہے کہ الٹرا ساو¿نڈ چیک اپس جاری ہیں لیکن ان کے نتائج سے حکومتی موقف پر شکوک و شبہات میں اضافہ ہو گیا ہے۔ تھائی رائیڈ کینسر وہ بیماری ہے، جس کا تعلق میڈیکل سائنس، ریڈیو ایکٹو مادوںکی تابکاری سے جوڑتی ہے۔ پروفیسر توشیدے سوڈا کا کہنا تھا کہ اس سلسلے میں مزید تحقیقات کی ضرورت ہے تاکہ حقائق کو منظر عام پر لایا جائے اور لوگوں میں شعور پیدا کیا جائے۔



کالم



وہ واقعہ جو کتاب میں نہیں


1999ء میں دو وزیراعظم ہانگ کانگ میں ایک ہی ہوٹل…

بخاریؒ کو امام بنانے والے لوگ

نویں صدی کا شہر بخاراتھا اور اس شہر میں ایک سادہ…

شوگر کے مریضوں کے لیے

گرو زاہد سے میرا رابطہ ایک ویڈیو کلپ سے ہوا تھا‘…

بسنت کے معاملے میں

یہ آج سے پندرہ برس پرانی بات ہے‘ میں اپنے بچوں…

بٹرفلائی افیکٹ

وہ دکان کے سامنے پریشان کھڑی تھی‘ اس کے بال الجھے…

آئل اینڈ سپیس وار

مجھے ایران میں مظاہروں کی پہلی اطلاع 31دسمبر 2025ء…

محبت تا ابد

وہ بے چارہ 1627ء تک غیر معروف اور نامعلوم تھا‘…

اصفہان میں دو دن

کاشان سے اصفہان کے لیے دو راستے ہیں‘ پہلا راستہ…

کاشان میں ایک دن

کاشان قم سے ڈیڑھ گھنٹے کی ڈرائیو پر واقع ہے‘…

قم میں آدھا دن

ہم تیسرے دن قم روانہ ہو گئے‘ قم تہران سے ڈیڑھ…

تہران میں کیا دیکھا (سوم)

مجھے امام خمینی کے تین مرلے کے گھر کے بعد شاہ…