پیر‬‮ ، 21 ستمبر‬‮ 2026 

11 ماہ کی پاکستانی سرجڑی بچیوں کو 14 گھنٹے طویل سرجری کے بعد علیحدہ کر دیا گیا

datetime 20  ستمبر‬‮  2024 |

انقرہ (این این آئی)ترکیہ کے دارالحکومت انقرہ میں 60 طبی ماہرین پر مشتمل ٹیم نے 14 گھنٹوں تک جاری رہنے والے دو مرحلوں پر مشتمل پیچیدہ ا?پریشن کے بعد پاکستان میں پیدا ہونے والی 11 ماہ کی جڑواں بچیوں کو کامیابی کے ساتھ علیحدہ کردیا۔ترک خبر رساں ایجنسی ‘انادولو’ کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں پیدا ہونے والی جڑواں بچیوں مرہا اور منال کے سر جڑے ہوئے تھے، جن کے اہلخانہ مناسب علاج تلاش کرنے سے قاصر تھے، ان کی مدد کی درخواست نے ترک صدر رجب طیب اردوان کی توجہ مبذول کرائی تھی۔

لندن میں مقیم معروف ماہر اطفال نیورو سرجن اویس جیلانی سے رابطہ کرنے کے بعد ترک صدر طیب اردگان نے یقین دہانی کرائی کہ بچیوں کا علاج ترکیہ میں کیا جائے گا۔جڑواں بچیاں اس سال مئی میں انقرہ پہنچیں اور انہیں بلکینٹ سٹی ہسپتال میں سخت طبی نگرانی میں رکھا گیا تھا، ان کی علیحدگی دو مراحل میں کی گئی، سرجیکل ٹیم کی قیادت ڈاکٹر اویس جیلانی نے کی جبکہ ان کے ساتھ ترک معالجین ڈاکٹروں میں ہارون ڈیمرسی اور ڈاکٹر حسن مرات ایرگانی بھی شامل تھے۔14 گھنٹے کاحتمی آپریشن 19 جولائی کو ہوا، جس میں کامیابی سے ان جڑواں بچیوں کے سر کو علیحدہ کیا گیا۔

ہسپتال کے چیف کو آرڈینیٹنگ فزیشن ڈاکٹر عزیز احمد سورل نے انادولو کو بتایا کہ بچیوں کی صحت اور ان کے مسکراتے چہروں کو دیکھ کر ایک ناقابل بیان خوشی ہورہی ہے۔جڑواں بچیوں کے والدین ریحان علی اور نازیہ پروین نے صدر رجب طیب اردوان، طبی عملہ اور بچیوں کے علاج میں شامل تمام افراد کا شکریہ ادا کیا۔بچیوں کے والد ریحان علی نے کہا’ ہم بہت خوش ہیں اور ان تمام لوگوں کے شکر گزار ہیں جنہوں نے اس ا?پریشن میں کردار ادا کیا،’ انہوں نے کہا کہ وہ ترک صدر سے ذاتی طور پر مل کر شکریہ ادا کرنا چاہتے ہیں۔ریحان علی کے مطابق انہیں پاکستان میں بتایا گیا تھا کہ بچیوں کا علاج ممکن نہیں جس کے بعد انہوں نے لندن میں ڈاکٹر اویس جیلانی سے رابطہ کیا تھا۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…

سنت یہ بھی ہے

ربیع الاول کا مقدس مہینہ ایک بار پھر ہمارے درمیان…