ہفتہ‬‮ ، 09 مئی‬‮‬‮ 2026 

ہم 100 سال تک لڑیں گے، سربراہ سوڈانی فوج

datetime 26  اگست‬‮  2024 |

خرطوم(این این آئی) سوڈانی فوج کے سربراہ کا کہنا ہے کہ وہ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوں گے بلکہ 100 سال تک لڑیں گے۔میڈیارپورٹس کے مطابق سوڈان کے اصل حکمران اور فوج کے سربراہ عبدالفتاح البرہان نے کہا ہے کہ ان کی حکومت سوئٹزرلینڈ میں حریف نیم فوجی دستوں کے ساتھ امن مذاکرات میں شامل نہیں ہوگی۔فوجی جنرل عبدالفتاح البرہان نے پورٹ سوڈان میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم جنیوا نہیں جائیں بلکہ ہم 100 سال تک لڑیں گے۔

سوڈان کی سرکاری فوج گزشتہ 16 ماہ سے زیادہ عرصے سے نیم فوجی ریپڈ سپورٹ فورسز (آر ایس ایف) سے لڑ رہے ہیں۔امریکہ نے 14 اگست کو سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کا آغاز کیا تھا جس کا مقصد انسانی مصائب کو کم کرنا اور دیرپا جنگ بندی حاصل کرنا تھا۔مذاکرات میں آر ایس ایف نے اپنے وفد جنیوا بھیجا تھا، مگر سوڈانی مسلح افواج نے ثالثوں کے ساتھ ٹیلی فونک رابطوں کے باوجود ان مذاکرات میں شرکت نہیں کی۔

ان مذاکرات کی میزبانی سعودی عرب اور سوئٹزرلینڈ نے مشترکہ طور پر کی تھی۔سوڈانی مسلح افواج اور آر ایس ایف باغیوں کی اس وحشیانہ لڑائی نے ہر پانچ میں سے ایک شخص کو اپنا گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا ہے جبکہ دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔خانہ جنگی کے باعث سوڈان بھر میں ڈھائی کروڑ سے زائد یعنی اس کی نصف سے زیادہ آبادی شدید بھوک کا شکار ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



آپریشن بنیان المرصوص (چوتھا حصہ)


مئی کی پاک بھارت جنگ پہلگام کے واقعے سے سٹارٹ…

آپریشن بنیان المرصوص(تیسرا حصہ)

ہمیں کہانی کو آگے بڑھانے سے قبل ایک اور حقیقت…

آپریشن بنیان المرصوص(دوسرا حصہ)

ظہیر احمد بابر کا کیریئر بظاہر ائیر کموڈور پر…

آپریشن بنیان المرصوص

میری درخواست ہے آپ تھوڑی دیر کے لیے اپریل 2025ء…

مذاکرات کی اندرونی کہانی

پاکستان میں ایران کے سفیر رضا امیری مقدم ہیں‘…

گریٹ گیم (آخری حصہ)

میں اس سوال کی طرف آئوں گا لیکن اس سے قبل ایک حقیقت…

گریٹ گیم(چوتھا حصہ)

لیویونگ زنگ اور اس کا بھائی لیویونگ ہو چین کی…

گریٹ گیم(تیسرا حصہ)

ہم بائبل پڑھیں‘ قرآن مجید اور احادیث کا مطالعہ…

گریٹ گیم(دوسرا حصہ)

حضرت آدم علیہ السلام اورحضرت حواء علیہ السلام…

گریٹ گیم

یہ گیم ہابیل اور قابیل کی لڑائی سے شروع ہوئی تھی‘…

ایران کی سب سے بڑی کام یابی

وہ آرٹسٹ تھی اور اس کا نام مرینا ابراموویک (Marina…