منگل‬‮ ، 22 ستمبر‬‮ 2026 

بنگلہ دیشی پارلیمنٹ کے دو سابق ارکان کے بینک اکائونٹس منجمد

datetime 20  اگست‬‮  2024 |

ڈھاکہ (این این آئی)بنگلہ دیش کی سابق حکمران جماعت عوامی لیگ کے دو رہنمائوں اور شیخ حسینہ واجد کے قریبی رشتہ داروں شیخ ہلال الدین اور شیخ تنموئے کے بینک اکائونٹ منجمد اور اپوزیشن لیڈر بیگم خالدہ ضیا کے بینک اکائونٹ 17 سال بعد بحال کر دیے گئے ۔غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق بنگلہ دیش کے مالیاتی انٹیلی جنس یونٹ (بی ایف آئی یو)نے سابق رکن پارلیمنٹ اور سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کے کزن شیخ ہلال الدین اور ان کے بیٹے سابق رکن پارلیمنٹ شیخ تنموئے کے بینک اکانٹس منجمد کرنے کا حکم دیا ہے۔بی ایف آئی یو نے ان کے ملکیتی کاروباروں کی بینک ٹرانزیکشنز کو بھی منجمد کر دیا ہے اور اس سلسلے میں ملک بھر کے بینکوں اور مالیاتی اداروں کو ہدایات جاری کر دی ہیں۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ شیخ ہلال الدین، ان کی اہلیہ روپا چوہدری اور ان کے بیٹے شیخ تنموئے کے بینک اکائونٹس کے ساتھ ساتھ ان کے کاروباروں کو بھی منجمد کر دیا گیا ہے۔بینکوں سے درخواست کی گئی ہے کہ وہ خط کے اجرا کی تاریخ سے پانچ کاروباری دنوں کے اندر مذکورہ اکائونٹس سے متعلق معلومات اور دیگر مخصوص ڈیٹا جمع کرائیں۔ دریں اثنانیشنل بورڈ آف ریونیو (این بی آر) نیبنگلہ دیشی بینکوں سے کہا ہیکہ وہ بنگلہ دیش نیشنلسٹ پارٹی کی چیئرپرسن اور اپوزیشن لیڈر خالدہ ضیا کے اکانٹس کو غیر منجمد کریں۔

این بی آر کی سینٹرل انٹیلی جنس برانچ (سی آئی سی) کی جانب سے بنگلہ دیش بینک کو خالدہ ضیا کے تمام بینک اکانٹس فعال کرنے کے حوالے سے ایک خط بھیجا گیا ہے۔اسی ادارے نے 17 سال قبل بینکوں کو خالدہ ضیا کے اکانٹس بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔ این بی آر کے نو تعینات چیئرمین عبدالرحمن خان نے یہ فیصلہ عبوری حکومت کے چیف ایڈوائزر ڈاکٹر محمد یونس سے مشاورت کے بعد کیا ۔مزید برآ ں ساور ضلع میں عوامی لیگ کے جنرل سیکرٹری اور سابق چیئرمین منظور عالم رجب اور ان کے چھوٹے بھائی فخر عالم ثمر ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور ریلیف کے سابق وزیر مملکت انعام الرحمن سمیت 321 افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

آج کی سب سے زیادہ پڑھی جانے والی خبریں


کالم



بلوچستان ڈوب رہا ہے(تیسرا حصہ)


نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے(دوسرا حصہ)

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

بلوچستان ڈوب رہا ہے

نوٹ: اگر آپ افورڈ کر سکتے ہیں تو یہ تحریر آپ کے…

صرف ایک شخص کے لیے

کانا ہراڈا (Kana Harada) کی عمر اس وقت سولہ سال تھی‘…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(آخری حصہ)

ہمارے زمانے میں معاشرہ لبرل تھا‘ لوگوں میں برداشت…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سترہواں حصہ)

ہماری گلی میں شراب کی دکان تھی‘ وہ چھوٹی سی تنگ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(سولہواں حصہ)

لالہ موسیٰ شہر میں ایک سرکاری اور تین پرائیویٹ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(پندرہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں ڈاک خانہ اور ریلوے سب سے بڑے ادارے…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(چودہواں حصہ)

ہمارے زمانے میں کرائے پر سائیکل ملتی تھی‘ یہ…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(تیرہواں حصہ)

میرا پورا بچپن چیری بلوسم شوپالش سے اپنے اور…

پتھر کے زمانے سے اے آئی تک(بارہواں حصہ)

ہم بچپن میں دو سنگین مسائل کا شکار تھے‘ ٹیلی…